عمرخطاب
انسانی زندگی میں بعض ملاقاتیں محض اتفاق نہیں ہوتیں بلکہ برسوں کی ریاضت اور مشترکہ علمی ورثے کا ثمر ہوتی ہیں۔ حال ہی میں امتحانی ڈیوٹی کی مصروفیات کے دوران ایسی ہی ایک ملاقات نے دل کے بند کواڑ کھول دیے۔ امتحانی ہال کی نگرانی کے دوران میرا سامنا ایک مُعنّک صوفی منش شخصیت سے ہوا، جو جامعہ ملاکنڈ کی جانب سے بطور انسپکٹر مقرر ہوئے تھے۔ مختصر گفتگو اور تعارف سے معلوم ہوا کہ موصوف گورنمنٹ کالج بٹخیلہ میں اردو کے پروفیسر ظہور عالم صاحب ہیں۔ تقریباً پونے ایک گھنٹہ تک ہم دونوں ایک دوسرے کو تجسس بھری نظروں سے دیکھتے رہے، گویا روحیں ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جب پردہ ہٹا تو انکشاف ہوا کہ یہ تو وہی رفیقِ دیرینہ ہیں جن سے یونیورسٹی کے دورِ طالب علمی میں ملاقاتیں رہا کرتی تھیں؛ جب ہم ماسٹر کر رہے تھے اور وہ ایم فل کے سکالر تھے۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے کوئی بچھڑا بھائی سالوں بعد ملا ہو، جس نے آنکھوں میں ٹھنڈک اور ذہن میں سرور کا ایک عجیب احساس بھر دیا۔
اردو والوں کے باہمی والہانہ تعلق کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ چند سال قبل ہمارے ادارے میں دیر بالا کے دو پروفیسر صاحبان تشریف لائے تھے۔ ادارے کے پرنسپل نے مجھے خاص طور پر کال کر کے بلایا اور کہا کہ “آپ کے مضمون کے پروفیسر آئے ہیں”۔ ان سے ملاقات کے دوران بھی وہی اپنائیت اور محبت کا منظر دیکھنے کو ملا جو برسوں کی شناسائی کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ گویا اردو سے وابستگی ایک ایسا غیر مرئی رشتہ ہے جو اجنبیوں کو بھی پل بھر میں ایک گہرے رشتے میں باندھ دیتا ہے۔ پروفیسر ظہور کے ساتھ اس ملاقات کے وقت ملاکنڈ ریجن کے پروفیسر کمیونٹی کِپلا کا صدر بھی موجود تھے، جنہوں نے اس والہانہ پن کو دیکھ کر بلا تکلف کہا: “ظہور! آپ اردو والوں کا یہی وطیرہ پرانا ہے کہ ایک اردو والے کو جہاں بھی دوسرا اردو والا ملے تو جان نثار کرتا ہے۔”
یہ جملہ محض ایک مشاہدہ نہیں بلکہ اس سحر کا اعتراف تھا جو اردو مضمون اپنے وابستگان پر طاری کرتا ہے۔ گویا اردو محض زبان یا مضمون نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیب ہے جو اپنی نرم مزاجی سے اردو دانوں کے دلوں کو موم بنا دیتی ہے۔ لیکن اس سحر اور باہمی محبت کے پیچھے اصل کمال ہماری مادرِ علمی، جامعہ پشاور کے شعبہ اردو کا ہے، جس نے اپنے ہر شاگرد کے خمیر میں یہ حس ڈال دی ہے کہ وہ اردو کا نام سنتے ہی اس کی طرف لپکتا ہے؛ خواہ وہ کوئی ادبی میگزین ہو، کانفرنس ہو یا اردو کا کوئی پروفیسر۔ جامعہ پشاور کا یہ شعبہ، جو 1956 میں صرف دو طلبہ سے شروع ہوا تھا، آج ایک تناور درخت بن چکا ہے جہاں سینکڑوں طلبہ علم کی پیاس بجھا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شعبہ اردو جامعہ پشاور کے سابقہ طلبہ کے درمیان ایک نہایت انوکھا اور مقدس رشتہ موجود ہے، جو اسے دیگر تعلیمی اداروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں عمر اور عہدے کی دیواریں اس طرح گرتی ہیں کہ ہر چھوٹا اپنے سے بڑے کو استاد کا درجہ دیتا ہے اور ہر بڑا اپنے سے کم سن جونیئر کو اسی شفقت سے نوازتا ہے جو ایک استاد اپنے عزیز شاگرد کے لیے رکھتا ہے۔ گویا اس علمی گلشن میں ہر فرد بیک وقت شاگرد بھی ہے اور استاد بھی۔ یہاں کوئی خود کو عقلِ کل نہیں سمجھتا، بلکہ مسلسل سیکھنے کے عمل کو ہی اصل کمال مانا جاتا ہے۔ یہی وہ تربیت ہے جو ہمیں اردو خاندان کا حصہ بناتی ہے۔
شعبہ اردو کی ایک اور نہایت خوبصورت روایت اپنے سابقہ طلبہ کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایلومنائی شعبہ اردو جامعہ پشاور کے نام سے ایک فعال تنظیم قائم کی گئی ہے، جو ہر سال جامعہ پشاور کے اسی مادرِ علمی میں تجدیدِ ملاقات کے عنوان سے ایک پروقار محفل سجاتی ہے۔ یہ محفلیں مادہ پرستی کے اس دور میں ہمیں اپنی علمی جڑوں سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ بنتی ہیں، جہاں دنیاوی عہدے پیچھے رہ جاتے ہیں اور صرف محبت و مروت کا رشتہ ہی معتبر ٹھہرتا ہے۔
اس مثبت علمی ماحول اور انسان شناسی کی روایت کو پروان چڑھانے میں اساتذہ کا کردار کلیدی رہا ہے۔ بالخصوص پروفیسر ڈاکٹر سلمان علی کی شفقت اور موجودہ سربراہِ شعبہ میڈم پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین کی متحرک قیادت اور کوششیں ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان اساتذہ نے نہ صرف علم بانٹا بلکہ اپنے شاگردوں کو ایک خاندان کی طرح جوڑ کر رکھا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج اردو کا ہر شاگرد دوسرے کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کرتا ہے۔
موجودہ دور میں جہاں کچھ ایسے مادہ پرست پروفیسر بھی نظر آتے ہیں جو اردو سے وابستہ ہونے کے باوجود اس صفتِ محبت سے محروم ہیں، وہاں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایسے لوگ اکثر جامعہ پشاور کے شعبہ اردو کے پروردہ نہیں ہوتے۔ کیونکہ ہمارا شعبہ اپنے شاگردوں کو صرف ڈگریاں نہیں دیتا بلکہ انہیں حساس، جمالیاتی ذوق کا حامل اور انسان دوست بناتا ہے۔ اردو والوں کے درمیان یہ قلبی رشتہ کسی دنیاوی مفاد کا محتاج نہیں۔ یہ اس مادرِ علمی کی تربیت کا کرشمہ ہے جو اپنے بچوں کو انسان دوستی اور باہمی جان نثاری کا درس دیتی ہے۔ جامعہ پشاور کا شعبہ اردو اور اس کے اساتذہ سلامت رہیں کہ ان کی بدولت آج بھی اردو کا نام سنتے ہی دلوں میں محبت کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔