تحریر: عتیق الرحمن
آج کا انسان علم، تحقیق اور معلومات کے ایسے دور میں جی رہا ہے جہاں ہر روز نئے نظریات اور خیالات سامنے آتے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور فلسفے نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ کیا انسانی عقل ہر مسئلے کا آخری فیصلہ کر سکتی ہے، یا اسے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی بھی ضرورت ہے؟ یہی سوال آج کے فکری ماحول کا سب سے اہم موضوع ہے۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تنقیحات” کے مضمون “عقلیت کا فریب” میں اسی مسئلے کو نہایت سادہ اور مدلل انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک عقل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کام کرے۔ اگر انسان عقل کو ہر چیز کا آخری معیار سمجھنے لگے تو وہ اپنی محدود سوچ کی وجہ سے حق سے دور بھی جا سکتا ہے۔
اسلام عقل کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کائنات، انسان کی تخلیق، دن اور رات کی گردش اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام جمود نہیں بلکہ شعور، علم اور تحقیق کا دین ہے۔
اسلامی علمی روایت بھی اسی اعتدال کی گواہ ہے۔ امام ابو حامد غزالیؒ نے عقل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا کہ عقل انسان کو راستہ دکھاتی ہے، لیکن اس کی تکمیل وحی سے ہوتی ہے۔ امام ابن قیمؒ نے واضح کیا کہ عقلِ سلیم اور صحیح وحی میں کبھی حقیقی تضاد پیدا نہیں ہو سکتا۔ اندلس کے عظیم مفکر ابن رشد نے بھی اپنی معروف کتاب “فصل المقال” میں عقل اور شریعت کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا۔ ہمارے عہد کے ممتاز فقیہ مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم بھی یہی بات بیان کرتے ہیں کہ عقل اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، مگر اس کا صحیح استعمال قرآن و سنت کی رہنمائی میں ہی ممکن ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی عقل محدود ہے۔ انسان کا علم، تجربہ اور مشاہدہ کامل نہیں ہوتا، اس لیے اس کی آراء وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ تاریخ میں ایسے بے شمار نظریات ملتے ہیں جنہیں ایک زمانے میں قطعی حقیقت سمجھا جاتا تھا، مگر بعد میں وہ غلط ثابت ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل قابلِ احترام ضرور ہے، لیکن اسے معصوم نہیں سمجھا جا سکتا۔
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر عقل محدود ہے تو پھر وحی کو سمجھنے کے لیے بھی عقل ہی استعمال ہوتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عقل سمجھنے کا ذریعہ ہے، لیکن حق و باطل کا آخری معیار نہیں۔ جیسے آنکھ دیکھنے کا ذریعہ ہے مگر روشنی کے بغیر کچھ نہیں دیکھ سکتی، اسی طرح عقل بھی وحی کی روشنی کے بغیر مکمل رہنمائی حاصل نہیں کر سکتی۔
یہ تصور بھی درست نہیں کہ اسلام تنقیدی فکر کی مخالفت کرتا ہے۔ اسلام سوال کرنے، تحقیق کرنے اور دلیل کی بنیاد پر بات سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے بھی مختلف مواقع پر رسول اللہ ﷺ سے سوالات کیے تاکہ دین کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ البتہ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا واضح حکم سامنے آ جائے تو ایک مومن اپنی رائے کو اس کے تابع کر دیتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن اس کے ساتھ بے بنیاد نظریات، شکوک اور فکری انتشار بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان نسل مختلف افکار سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں صرف جذباتی نعروں سے کام نہیں چل سکتا، بلکہ مضبوط علمی بنیاد، اچھا اخلاق اور متوازن دینی فکر ہی معاشرے کی صحیح رہنمائی کر سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عقل اور وحی ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ عقل انسان کو سوچنے، سمجھنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ وحی اسے صحیح سمت عطا کرتی ہے۔ جب عقل اپنی حدود کو پہچان کر اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے وابستہ ہو جاتی ہے تو انسان فکری انتشار سے نکل کر اعتدال، بصیرت اور حقیقی کامیابی کی راہ پا لیتا ہے۔
آج دنیا کو عقل اور وحی کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی نہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی توازن ایک مضبوط شخصیت، صالح معاشرے اور پائیدار تہذیب کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر عقل کو وحی سے الگ کر دیا جائے تو انسان مادیت، خواہشات اور ذاتی مفادات کا قیدی بن جاتا ہے، اور اگر عقل کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے تو جمود، تنگ نظری اور اندھی تقلید جنم لیتی ہے۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں سے بچ کر اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
آج کی دنیا میں اسی متوازن فکر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ نے “عقلیت کا فریب” میں پیش کیا۔ یہ صرف ایک علمی بحث نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے رہنمائی ہے جو عقل، ایمان اور حقیقت کے درمیان درست تعلق کو سمجھنا چاہتا ہے۔ جب عقل وحی کی روشنی میں سفر کرتی ہے تو علم بھی نفع بخش بنتا ہے، کردار بھی سنورتا ہے اور انسان دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔