وزیرستان کے علاقے شکئی میں دیرینہ زمینی تنازع پر دو قبائل مورچہ زن ہو گئے اور اس دوران ہر دو جانب سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خوجالخیل اور سپرکئی قبائل کے سینکڑوں افراد نے ایک دوسرے کے خلاف مورچے سنبھال لیے ہیں، اور دونوں جانب سے مختلف ہتھیاروں سے دور دور تک فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 افراد فائرنگ میں شریک ہیں، جبکہ زمین تنازع پر دو قبائل مورچہ زن ہو چکے ہیں ، شکئی میں مواصلاتی رابطے اور انٹرنیٹ سروسز نہ ہونے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یاد رہے کہ فائرنگ کے باوجود تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہوئی۔