صوابی (ویب ڈیسک): ضلع صوابی کے علاقے گدون گندف میں گورنمنٹ پرائمری سکول مولا خیل کو مالک اراضی کی جانب سے مبینہ طور پر تالا لگا دیے جانے کے باعث تقریباً 410 طلبہ اور اساتذہ سکول سے باہر رہ گئے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق سکول کے لیے اراضی فراہم کرنے والے مالک، جو سابق ریٹائرڈ کلاس فور ملازم بھی ہیں، کا مؤقف ہے کہ انہوں نے سکول کے قیام کے لیے زمین فراہم کی تھی۔ مالک اراضی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے بیٹے کو سکول میں ملازمت دی جائے۔
ذرائع کے مطابق اسی معاملے پر سکول کو مبینہ طور پر تالہ لگایا گیا، جس کے باعث طلبہ کو سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور تدریسی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔
سکول کی بندش پر والدین اور اہل علاقہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اراضی یا انتظامی تنازع کا خمیازہ بچوں کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ فریقین کے درمیان معاملہ طے کرکے طلبہ کی تعلیم فوری بحال کی جائے۔
والدین نے محکمہ تعلیم صوابی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر سکول کا تالا کھلوایا جائے اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کے لیے قانونی و انتظامی طریقہ کار کے مطابق مستقل حل نکالا جائے۔