ہری پور : قتل اور ہراسگی کے کیسز میں انوکھا انصاف، ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور قتل کیس میں گرفتار تین ملزمان قاسم، عثمان اور طلحہ کی ضمانت پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے منظور کر لی۔
ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ میں کیس کی سماعت ہوئی، جہاں تینوں ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دیے گئے، عدالت نے سماعت کے بعد ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض تینوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔
سول کورٹ سے ضمانت مسترد، ہائی کورٹ سے رجوع
اس سے قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہری پور نے تینوں ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں، عدالت نے اپنے فیصلے میں مقدمے کی نوعیت اور دستیاب تفتیشی مواد کو مدنظر رکھا تھا۔
بعد ازاں ملزمان کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد سرکٹ بینچ سے رجوع کیا گیا، جہاں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
ملزمان کو کالم بی میں بے گناہ قرار دیا گیا
عدالت میں ملزمان کے وکیل عاطف جان جدون نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی جانب سے کیس کی دوبارہ تفتیش کی گئی ہے اور تینوں بچوں کو کالم بی میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔
وکیل نے عدالت کو نئی تفتیش اور دستیاب مواد سے متعلق نکات سے آگاہ کیا، جس کے بعد عدالت نے تینوں ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔
دوسری جانب آیت نور کے والد محمد شفیق نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ انہیں تینوں بچوں کی ضمانت پر اعتراض نہیں ہے۔
کیس کا دوبارہ جائزہ
آیت نور کیس کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ہزارہ ناصر ستی کی ہدایت پر ایس پی انویسٹی گیشن ایبٹ آباد ایاز محمود کی سربراہی میں نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
اس سے قبل پولیس نے عثمان، قاسم اور طلحہ کو گرفتار کیا تھا، ابتدائی تفتیش میں پولیس کی جانب سے تینوں ملزمان کے خلاف مختلف شواہد اور بیانات کا ذکر کیا گیا تھا۔
بعدازاں کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت کے لیے نئی ٹیم نے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
حسن کو مرکزی ملزم قرار دینے کا معاملہ
تازہ تفتیشی پیش رفت کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم نے تین کم عمر ملزمان کے کردار کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے انہیں بے گناہ قرار دینے کی سفارش کی، جبکہ حسن کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، تاہم کسی ملزم کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور حتمی فیصلے سے ہوگا۔
ایک ملزم جیل میں قید
آیت نور کیس میں پہلے چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں عثمان، قاسم، طلحہ اور حسن شامل تھے۔ تین ملزمان کو اب ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے جبکہ چوتھے ملزم حسن کے خلاف مقدمے کی قانونی کارروائی جاری ہے۔
تحقیقات پہلے بھی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے کی گئی تھیں، جبکہ بعد میں نئی تفتیشی ٹیم کو کیس کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
تینوں ملزمان کی ضمانت کا مطلب مقدمے میں ان کی حتمی بریت نہیں ہے؛ کیس کے دیگر قانونی اور تفتیشی مراحل بدستور جاری رہیں گے