تحریر :۔ شمیم شاہد
جب بھی امریکہ کے کسی بھی انتخابی معرکے میں ریپبلک کو شکست اور ڈیموکریٹ کو کامیابی ملتی ھے تو تیسری دنیا کے جنگ ذدہ ۔ آفت زدہ۔ غربت ذدہ اور آمرانہ طرز نظام سے نالاں لوگوں کو ایک پر امن دور میں داخل ھونے کی امید پیدا ھوتی ھے ۔ گو کہ یہ دور انتہائی مختصر ھوتا ھے مگر پھر بھی یہ دنیا بھر کے پر امن ۔ جمھوریت پسند اور انسانی حقوق سے پیار کرنے والوں کیلئے حوصلہ مند ثابت ھوتا ھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی سیاستی اور انتظامی اداروں اور فیصلوں میں امریکی ریاستی اداروں بالخصوص سی آئی اے اور ایف بی آئی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور یہ دونوں ادارے اگر ایک طرف امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کے زیر اثر ھوتے ھیں تو دوسری طرف ان دونوں اداروں کے قیود و قاعدے بھی یہی پینٹاگون طے کرتا ھے جس طرح پاکستان کے دو اھم ریاستی تحقیقاتی اور جاسوسی اداروں اور فوج کے مرکزی دفتر جنرل ھیڈکوارٹرز کے درمیان روابط یا تعلقات ھوتے ھیں۔ امریکی ادارے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے حکمت عملی تو طے کرتے ہیں مگر پاکستان کے طرح عوامی رائے عامہ پر اثر انداز نہیں ھوتے ۔ پاکستان کی نسبت امریکہ میں عوام بالکل مرضی کے مطابق امیدوار یا دو میں سے کسی ایک پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔ حتی کہ والدین اپنے بچوں کو بھی انکی مرضی یا پسند کے امیدوار یا پارٹی کو ووٹ دینے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ حالیہ تین نومبر 2026 کے درمیانی مدت کے انتخابات میں دیگر ممالک سے امریکہ منتقل اور امریکی شہریت حاصل کرنے والے لاکھوں پاکستانی نژاد امریکی شہریوں میں صوابی خیبر پختونخوا کے دوست پروفیسر اسماعیل صاحب کے بچے بھی شامل ہیں۔ پروفیسر اسماعیل کے بقول انکے اہل خانہ کے چھ افراد نے انتخابات میں رائے دہی کا استعمال کیا مگر ان تمام چھ افراد سمیت پروفیسر اسماعیل کو بھی معلوم نہیں کہ کس نے کس پارٹی یا امیدوار کو ووٹ دیا ۔ یہی ھے جمھوریت اور یہی ھے تہذیب ۔ بہرحال بات ھو رھی ھے امریکی انتخابات اور بقیہ دنیا پر اس کے اثرات کی۔ اگر دیکھا جائے تو نومبر 2024 کے انتخابات میں امریکی عوام نے اس بنیاد پر ڈونالڈ ٹرمپ کو منتخب کروایا تھا کہ وہ مشرق وسطی۔ جنوب ایشیا اور افریقی ممالک میں جاری جنگی ماحول کو پر امن بنائیں گے۔ امریکی عوام کو درپیش معاشی مسائل حل کرینگے ۔مگر ایسا نہ ھوسکا بلکہ صدر ٹرمپ نے دیے پر تیل چھڑک کر عالمی سطح پر جاری سیاسی بحران کو مکمل طور پر جنگ و جدل میں تبدیل کر دیا ۔ اب جبکہ درمیانی مدت کے انتخابات کے نتائج مکمل ھونے کو ھیں اور صدر ٹرمپ نے ناکامی کا اعتراف کرکے نتائج کو تسلیم کر دیا ھے ۔ صدر ٹرمپ نے رپبلکن کی ناکامی کی وجوہات میں سرفہرست ایران کے ساتھ جنگ اور اسرائیل کی حمایت قرار دیا ھے ۔ یہ بھی ابھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ افغانستان میں ایک منتخب مرکزی نظام حکومت کے گرانے اور وہاں پر عالمی سطح پر دھشت گرد قرار دیے جانے والے طالبان کو مسلط کرنے کے پیچھے کارفرما قوتیں کوئی اور نہیں بلکہ امریکی جاسوسی ادارے تھے۔ گو کہ طالبان کے ساتھ دوحہ قطر میں معاھدہ ڈیموکریٹ نے کیا تھا اور ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کے دور میں طالبان برسر اقتدار آئے تھے مگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک موثر انداز میں ان طالبان کی بھرپور مالی مدد کی ھے اور کر رھا ھے۔ یہ بھی کہا جاتا ھے کہ ایران پر حملہ کرنے سے قبل پاکستان اور افغانستان کے طالبان حکومت کےدرمیان جنگ چھڑنے میں صدر ٹرمپ کا ہاتھ ھے اس کی اصل وجہ ایران جنگ میں مسلمانوں کی رد عمل کو سبوتاژ کرنا تھا جس میں کافی حد تک امریکی خفیہ اداروں کو کامیابی ملی ھے۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ھے کہ وسط ایشیائی اور جنوب ایشیا میں من پسند تبدیلی کے لئے امریکہ عرصہ دراز سے غیر سیاسی اور غیر جمھوری قوتوں بالخصوص فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کر رھا ھے یہی وجہ ھے کہ پچھلے ڈیڑھ دھائی سے پاکستان میں جمھوری سیاسی عمل ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ مفلوج بنانے کا عمل بھی جاری ھے ۔ اگر دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ جنگ اور اسرائیل کی سرپرستی کے علاوہ وینزویلا میں صدر کی برطرفی اور دیگر ممالک پر اپنی مرضی کو ٹھونسنے کے کوششوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو عالمی سطح پر ایک غاصب اور جابر حکمران کے طور پر پیش کیا ھے ۔ اندرونی طور پر صدر ٹرمپ نے وائس آف امریکہ سمیت بہت سے اداروں کو مفلوج اور امیگریشن کے قوانین کو مزید سخت کر دیا ۔ عالمی سطح پر امریکی تجارت کو بھی کسی نہ کسی حد تک ٹیریف بڑھانے یا رد و بدل کرنے سے نقصان پہنچایا ھے ۔ یہی وہ چند ایک عوامل ھیں جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ اور رپبلکن کو درمیانی مدت کے انتخابات میں تاریخی شکست سے دو چار ھونا پڑا ھے ۔ اب دیکھنا یہ کہ 2027 کے صدارتی انتخابات کے لئے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن کیا حکمت عملیاں طے کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ سوویت یونین کے تہس نہس ھونے کے بعد امریکہ اب عالمی سطح پر ایک موثر قوت بن چکا ھے ۔ امریکی ھی تیسری دنیا کے سیاسی اور انتظامی معاملات پر اثر انداز ھو سکتا ھے ۔ اس وقت کوئی بھی ملک یا قوم ظلم و جبر یا زبردستی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں مگر یہ بھی حقیقت ھے کہ اب دنیا جنگ و جدل کی متحمل بھی نہیں۔ ہر ایک ملک و قوم کی خواہش ھے کہ وہ اندرونی اور بیرونی طور پر پر امن اور مستحکم رھے ۔ اس لئے وہ ہر ایک پڑوسی کے ساتھ برابری کی بنیاد پر پر امن بقائے سلامتی کے پالیسی کو ترجیح دیتا ھے ۔ اب وقت ھے کہ امریکہ اور امریکہ کے جاسوس ادارے مزاحمت۔ تقسیم در تقسیم اور لڑاو کی پالیسیوں کو ترک کردے ۔ تیسری دنیا بالخصوص جنوب ایشیائی ممالک جو جنگ و جدل سے بہت متاثر ھونے والے ممالک اور اقوام اب امن استحکام اور معاشی خوشحالی کے خواہاں ھیں لہذا امریکہ کا فرض بنتا ھے کہ وہ دنیا کو ایک اور عالمی جنگ میں دھکیلنے کی بجائے قیام امن پر توجہ مرکوز کرے ۔ جنگ ذدہ اور غربت ذدہ ممالک اور اقوام کی حالت پر رحم کر ے تو یہ امریکہ کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں کے لئے بہتر ھوگا ۔