پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کے بعد تفتیشی حکام نے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی کر دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خودکش حملہ آور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے پشاور میں چند دن قیام کیا تاکہ شہر کے راستوں اور حساس مقامات سے واقفیت حاصل کی جا سکے۔
حکام کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی خودکش جیکٹس اور رہائش فراہم کرنے میں دہشتگردوں کی سہولت کاری کی گئی۔ اب تک 150 سے زائد افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے تاکہ حملے کے پسِ منظر اور نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان کا پتا لگایا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اس حملے میں 3 اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، جبکہ حملہ آوروں میں شامل 3 افراد بھی مارے گئے تھے۔ ایف سی حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں
