نماز جنازہ میں پولیس افسران، سیاسی و سماجی شخصیات اور ہزاروں افراد کی شرکت، چاق و چوبند دستے کی سلامی، قبر پر پھول چڑھائے گئے
شیرگڑھ (نمائندہ پختونخوا نیوز) کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے ایس پی ٹریفک کوہاٹ اکبر خان شینواری کو ان کے آبائی گاؤں ہاتھیان، کریم آباد میں آہوں اور سسکیوں کے درمیان سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ شہید کی میت آبائی علاقے پہنچنے پر فضا سوگوار ہوگئی جبکہ نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
شہید ایس پی کی قبر پر پولیس حکام کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، چاق و چوبند پولیس دستے نے سلامی پیش کی جبکہ قومی پرچم بھی لہرایا گیا۔ سیکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ نماز جنازہ ممتاز عالم دین شیخ الحدیث والقرآن مولانا محمد طاہر حقانی نے پڑھائی۔
نماز جنازہ میں ریجنل پولیس آفیسر مردان قاسم علی خان، ایس پی سی ٹی ڈی مہمند قاضی عصمت، ایس پی صدر سرکل مردان مختیار خان، ایس پی کوہاٹ اعجاز خان، ایس پی پشاور شفیق خان، ایس پی سی ٹی ڈی امجد خان، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی مردان عمر گل خان، ڈی ایس پی سٹی فاضل خان، ڈی ایس پی شیرگڑھ سرکل نوردراز خان سمیت پولیس افسران، شہید کے عزیز و اقارب، سیاسی و سماجی شخصیات، علاقہ عمائدین، سرکاری و سول افسران اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔
اس موقع پر شہید کے بیٹے اور دیگر رشتہ دار دھاڑیں مار کر روتے رہے، جس سے فضا انتہائی سوگوار ہوگئی۔ شہید ایس پی اکبر خان شینواری اپنے پیچھے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سمیت چار بچوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔
شہید اکبر خان شینواری اس سے قبل لوئر دیر میں ڈی ایس پی کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، بعد ازاں انہیں ایس پی کے عہدے پر ترقی دے کر ایس پی ٹریفک کوہاٹ تعینات کیا گیا تھا۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ 15 جولائی 2026 کو شہید ایس پی اکبر خان شینواری کے بڑے بھائی موٹروے پولیس کے انسپکٹر جاوید اکبر خان شینواری بھی کامرہ کے مقام پر موٹروے پر ڈمپر کی ٹکر کے نتیجے میں شہید ہوگئے تھے۔ یوں دونوں بھائی فرائض کی انجام دہی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرکے شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہوگئے۔