کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش دھماکہ کے ڈانڈے افغانستان سے جاملے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری نکلا۔
کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب دھماکے کے بعد دہشت گردوں نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے طویل کلیئرنس آپریشن کیا، خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق کارروائی میں مجموعی طور پر 8 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
دوسرے دہشتگرد کی شناخت
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں ملوث دوسرے دہشتگرد کی شناخت کا عمل جاری ہے، مطیع اللہ کی افغان شہری کی حیثیت سے شناخت سامنے آنے کے بعد حملے میں سرحد پار عناصر کے ممکنہ کردار سے متعلق تحقیقات مزید اہم ہوگئی ہیں۔
کوہاٹ حملے میں 8 دہشتگرد مارے گئے
خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز دھماکہ کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کیا، جس میں 8 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ اہم عمارتوں کو کلیئر کر دیا گیا۔
حملے میں جانی نقصان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں 23 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
افغانستان سے دراندازی کا انکشاف
پاکستانی سیکیورٹی حکام ماضی میں متعدد مرتبہ یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی اور سرحد پار دراندازی کے خطرات موجود ہیں۔
افغان طالبان پر الزامات و شکوک
پاکستانی حکام طویل عرصے سے افغان طالبان پر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پاکستانی طالبان سے وابستہ عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
حالیہ کوہاٹ حملے کے تناظر میں بھی افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے درمیان ممکنہ روابط کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس بھی خطے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی اور سرحد پار عسکریت پسندوں کی موجودگی پر جاری کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
سہولت کاری و ممکنہ سرحد پار روابط
کوہاٹ پولیس لائنز حملے کی تحقیقات میں حملہ آوروں کی شناخت، ان کے سہولت کاروں اور ممکنہ سرحد پار روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں اور ان کے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔