لاہور:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعوی کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تقریباً 99فیصد نکات پر اتفاق ہوچکا تھا اور معاہدے کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم نے مثبت اور موثر انداز میں مذاکرات کیے، دونوں فریقین کے درمیان زیادہ تر معاملات طے پاگئے تھے اور معاہدے کا ڈرافٹ بھی تیار ہوگیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ معاہدے کا مسودہ صدر آصف علی زرداری کے پاس لے کر گئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی مذاکرات کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی گئی۔
محسن نقوی کے مطابق ایک دو معاملات پر اختلاف باقی تھا، تاہم 99 فیصد نکات پر اتفاق ہوچکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر سے ملاقات کے بعد واپسی پر ڈرافٹ میں متعدد تبدیلیاں سامنے آئیں اور مذاکرات کے دوران چار مرتبہ مسودہ تیار کیا گیا اور ہر مرتبہ اس میں تبدیلی کی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں کے درمیان انسدادِ دہشتگردی سمیت بعض امور پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا، تاہم بعد میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان معاملات پر تحفظات سامنے آئے۔
محسن نقوی نے گزشتہ روز بھی دعویٰ کیا تھا کہ کے پی حکومت نے انسدادِ دہشتگردی سے متعلق متعدد اقدامات پر تحریری معاہدے اور 72گھنٹوں میں عملدرآمد پلان دینے پر اتفاق کیا تھا، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں اس موقف سے پیچھے ہٹ گئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ اگر فیصلے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہی کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تھا۔
ان کے بقول اگر حکومت کو پہلے معلوم ہوتا کہ خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کو ویٹو کردے گی تو مذاکرات شروع ہی نہ کیے جاتے۔
وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے سات نکاتی ڈرافٹ کو عوام کے سامنے رکھتے ہوئے اپنے مطالبات کو آئینی اور قانونی قرار دیا ہے