پشاور (نمائندہ پختونخوا نیوز) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ صوبے کو مفلوج کر دیا گیا ہے، عوام امن، دہشت گردی کا خاتمہ اور ترقی چاہتے ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست نے خیبر پختونخوا کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 13 سال سے جاری حکمرانی کے بعد عوام اب موجودہ طرزِ سیاست سے نجات چاہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز پشاور میں ’’خیبر پختونخوا بچاؤ تحریک‘‘ کے باقاعدہ آغاز کے موقع پر منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر مقام نے دعویٰ کیا کہ انٹرنیٹ سروس بند ہونے کے باوجود مختصر وقت میں ہزاروں افراد جلسے میں شریک ہوئے، جو پاکستان، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور افواج پاکستان سے وابستگی کا اظہار ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ سے صوبے میں مارچ اور جلسوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ صوبے کے انتظامی اور عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کے بقول مختلف اضلاع میں مارچ کے نام پر چندہ جمع کیا جا رہا ہے، لیکن عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، تاہم ان کے خیال میں صوبائی حکومت کی ترجیحات میں امن و امان کا مسئلہ شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام دہشت گردی کا خاتمہ، پائیدار امن اور ترقی چاہتے ہیں اور اب انہیں درپیش مسائل سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔امیر مقام کا کہنا تھا کہ پختون عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور انہوں نے ملک کے قیام اور سلامتی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقی کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جائے گی اور آئندہ جلسوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے جلسے میں مختصر وقت کے اندر لوگوں کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ صوبے کے عوام امن اور ترقی کے خواہاں ہیں۔ جلسے کے موقع پر کارکنوں نے ریلی بھی نکالی اور ’’خیبر پختونخوا بچاؤ‘‘ اور ’’گو عمران گو‘‘ کے نعرے لگائے۔