
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، چئیرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق کاغذات مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیے گئے، صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کاغذات آرٹیکل232کی شق 7کے تحت مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھے گئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا دلخراش واقعہ آیا، چھت گرنے سے بچے اور اساتذہ شہید ہوئے
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے فوائد معطل کرنے کی تحریک مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، تحریک وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔
اپوزیشن اراکین بازووں پر کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے، اپوزیشن نے گنتی چیلنج کر دی۔
اسپیکر نے قرارداد کے حق اور مخالفت میں اراکین کو گننے کی ہدایت کی، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد کے حق میں 214اراکین نے حمایت کی، 56اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی۔
صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی جاری رکھی۔
مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قرارداد پر بحث شروع ہوئی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضا پورا کرنے کیلئے اج کا اجلاس بلایا گیا ہے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس پر بات ہوچکی ہے۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس اسلام آباد اور پشاور میں ہوتے رہے، صوبے میں ایک روز میں لکی مروت، ٹانک، باجوڑ میں واقعات ہوئے، ایسے وقت میں وزیراعلی کو لانگ مارچ کی بجائے ہسپتال میں ہونا چاہیے۔