ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ڈکیتی کی دفعہ میں 10 سال قید، 20 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت مزید 10 سال قید کی سزا بھی سنائی۔
کیس کی سماعت کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی، جہاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے ملزم عمر حیات کا دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کیا۔
سماعت کے آغاز پر سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ جج نے ملزم سے مختلف سوالات کیے۔ ابتدائی طور پر ملزم نے اپنی عمر بتانے سمیت بیشتر سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی کے بغیر کوئی بیان نہیں دے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان جج اور ملزم کے درمیان براہِ راست مکالمہ ہوتا ہے اور اس کے لیے وکیل کی موجودگی ضروری نہیں۔
عدالت کی جانب سے ملزم سے استفسار کیا گیا کہ آیا اس نے عمر حیات کے نام سے گاڑی کرائے پر لی، کیا وہ ثنا یوسف کے گھر گیا، کیا اس نے فائرنگ کی، موبائل فون لیا اور جائے وقوعہ سے فرار ہوا، تاہم ملزم مسلسل وکیل کی عدم موجودگی کا جواز دیتا رہا۔
بعد ازاں ملزم کے وکلا کمرہ عدالت میں پہنچے، جس کے بعد دوبارہ سوالات کیے گئے۔ اس دوران عدالت نے کمرہ عدالت میں ویڈیو بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور واضح ہدایت جاری کی کہ عدالت کے اندر کسی قسم کی ویڈیو یا ٹک ٹاک بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
وکیل صفائی کی موجودگی میں ملزم نے اپنی عمر 23 سال بتائی، تاہم قتل میں ملوث ہونے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ اسلام آباد آیا، نہ ثنا یوسف کو جانتا ہے، اور نہ ہی اس کا اس مقدمے سے کوئی تعلق ہے۔ اس نے مقف اپنایا کہ گاڑی کرائے پر لینے کا معاہدہ جعلی ہے اور استغاثہ کے کیس کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا۔
ملزم نے مزید دعوی کیا کہ اسے 3 جون کو جڑانوالہ سے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، پولیس نے اسے تھانے لا کر اس کی ویڈیوز بنائیں اور انہیں وائرل کیا۔ اس کے مطابق ثنا یوسف کے اہل خانہ پر بھی دبا ڈالا گیا کہ اسے بطور ملزم شناخت کریں۔
عمر حیات نے اپنے مبینہ اعترافی بیان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس بارے میں علم ہی نہیں اور نہ ہی اس نے کبھی قتل کا اعتراف کیا۔
ثنا یوسف کے قتل نے سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل کی تھی، کیونکہ وہ ایک معروف ٹک ٹاکر تھیں۔
ابتدائی تحقیقات میں ان کے موبائل فون، مشتبہ رابطوں، فرانزک شواہد اور مبینہ رینٹل گاڑی کے ذریعے ملزم تک رسائی حاصل کرنے کا دعوی کیا گیا تھا، تاہم دفاع مسلسل شواہد کی ساکھ پر سوال اٹھا رہا ہے۔