تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
پاکستان کی غیر دستاویزی معیشت، جسے عام طور پر “بلیک اکانومی” یا “گرے اکانومی” بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ یہ وہ مالی نظام ہے جو ٹیکس، سرکاری نگرانی اور قانونی ضوابط سے باہر چلتا ہے۔ اگرچہ حکومتیں وقتاً فوقتاً اس پر قابو پانے کے دعوے کرتی رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا حجم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں روزانہ اربوں روپے ایسی سرگرمیوں کے ذریعے گردش کرتے ہیں جن کا کوئی باقاعدہ سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔ اس میں نقد لین دین، غیر رجسٹرڈ کاروبار، غیر قانونی سرمایہ کاری، حوالہ ہنڈی، اور ایسے مالیاتی نظام شامل ہیں جو ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں۔
ملک کے کئی بڑے شہروں میں سونے کی خرید و فروخت کا ایک بڑا حصہ اب بھی نقد ادائیگی پر مشتمل ہے۔ بعض اوقات لاکھوں اور کروڑوں روپے کے سودے صرف نقد رقم کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے ان لین دین کا مکمل ریکارڈ حکومتی اداروں تک نہیں پہنچ پاتا اور ٹیکس وصولی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسی طرح جائیداد کی خرید و فروخت بھی طویل عرصے سے غیر دستاویزی معیشت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس شعبے میں اصلاحات کی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن اب بھی بہت سے معاملات میں اصل قیمت سے کم مالیت ظاہر کرنے، نقد ادائیگی کرنے یا غیر شفاف طریقوں سے سرمایہ منتقل کرنے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں روایتی غیر دستاویزی کاروبار کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی نئے رجحانات سامنے آئے ہیں۔ مختلف غیر رجسٹرڈ سرمایہ کاری ایپس، کرپٹو سے منسلک پلیٹ فارمز، بائنری ٹریڈنگ ویب سائٹس اور دیگر آن لائن منصوبے تیزی سے مقبول ہوئے، جنہوں نے مختصر وقت میں غیر معمولی منافع کے دعوے کرکے لاکھوں افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
ان پلیٹ فارمز میں سے بہت سے ایسے تھے جن کے پاس نہ کوئی واضح قانونی اجازت موجود تھی، نہ ہی سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر نظام۔ ابتدا میں کچھ لوگوں کو منافع ملا، مگر بعد میں متعدد پلیٹ فارم اچانک بند ہوگئے، جس کے نتیجے میں بے شمار افراد اپنی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔
ہر بار جب کوئی بڑا فراڈ سامنے آتا ہے تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ آئندہ محتاط ہوجائیں گے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد ایک نئے نام، نئے لوگو اور نئے وعدوں کے ساتھ دوسرا پلیٹ فارم سامنے آجاتا ہے، اور سرمایہ کاروں کی ایک نئی تعداد دوبارہ اس کا رخ کر لیتی ہے۔
زیادہ تر ایسی اسکیموں کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ شروع میں زیادہ منافع دکھایا جاتا ہے، ابتدائی سرمایہ کاروں کو ادائیگیاں کرکے اعتماد پیدا کیا جاتا ہے، پھر مزید لوگوں کو شامل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اور آخرکار نظام اچانک بند ہوجاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے۔ مختلف انفلوئنسرز، ویڈیو بنانے والے افراد اور بعض آن لائن شخصیات اپنی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی ایپس یا ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی تشہیر کرتی ہیں، جس سے عام لوگوں میں ان منصوبوں پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔
اکثر یہ تشہیر ریفرل سسٹم پر مبنی ہوتی ہے، جہاں ہر نیا صارف لانے پر کمیشن یا بونس دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً لوگ خود بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو بھی شامل کرتے ہیں، جس سے اسکیمیں تیزی سے پھیلتی ہیں۔
جب یہ پلیٹ فارم بند ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان انہی عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی بچت یا قرض لے کر سرمایہ کاری کی ہوتی ہے۔ بہت سے خاندان مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ایسے فراڈ اس لیے بھی بار بار کامیاب ہوجاتے ہیں کیونکہ فوری اور زیادہ منافع حاصل کرنے کی خواہش بہت سے لوگوں کو خطرات نظر انداز کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جب کسی کو چند دن یا چند ہفتوں میں غیر معمولی منافع ملتا دکھائی دیتا ہے تو دوسرے لوگ بھی بغیر مکمل تحقیق کے سرمایہ لگا دیتے ہیں۔
پاکستان میں نقد لین دین کا وسیع استعمال بھی غیر دستاویزی معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔ جب کاروباری سرگرمیوں کا بڑا حصہ بینکنگ نظام سے باہر ہوتا ہے تو حکومتی اداروں کے لیے مالی سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق کم ٹیکس نیٹ، پیچیدہ ٹیکس نظام، سرکاری اداروں پر اعتماد کی کمی اور بعض شعبوں میں کمزور نگرانی بھی لوگوں کو رسمی معیشت سے باہر رہنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی خزانے کو اربوں روپے کے ممکنہ محصولات سے محروم ہونا پڑتا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جہاں قانونی کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بھی نئے راستے کھول دیے ہیں۔ اب صرف ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے ہزاروں افراد تک رسائی حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوچکا ہے۔
بعض جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارم اپنی تشہیر میں مصنوعی ذہانت، کرپٹو کرنسی، فاریکس، خودکار ٹریڈنگ یا جدید مالیاتی ٹیکنالوجی جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ معتبر نظر آئیں، حالانکہ حقیقت میں ان کے کاروباری ماڈل کے بارے میں واضح معلومات موجود نہیں ہوتیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتے ہیں اور کئی غیر قانونی نیٹ ورکس بے نقاب بھی کیے جاتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ کی تیز رفتار دنیا میں ایک پلیٹ فارم بند ہونے کے بعد دوسرا پلیٹ فارم بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
مالیاتی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ ادارے کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن، لائسنس، کاروباری ماڈل اور خطرات کے بارے میں مکمل تحقیق کرنا ضروری ہے۔ صرف سوشل میڈیا اشتہارات یا کسی معروف شخصیت کی تشہیر کو سرمایہ کاری کا معیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔
تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کا بھی ماننا ہے کہ مالی آگاہی میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر عوام کو سرمایہ کاری، مالی منصوبہ بندی، آن لائن فراڈ اور مالی خطرات کے بارے میں بہتر تعلیم دی جائے تو دھوکہ دہی کے امکانات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
حکومتی سطح پر بھی ماہرین ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، جس میں ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ، مؤثر نگرانی، جدید قوانین اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر تعاون شامل ہو تاکہ غیر دستاویزی معیشت کا دائرہ محدود کیا جا سکے۔
جب قانونی کاروبار کرنا آسان، شفاف اور کم پیچیدہ ہوگا تو زیادہ سے زیادہ افراد رسمی معیشت کا حصہ بننے کو ترجیح دیں گے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا بلکہ قومی آمدنی میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔
حقیقت یہی ہے کہ بلیک منی، گرے اکانومی، غیر قانونی سرمایہ کاری پلیٹ فارم اور آن لائن مالی فراڈ اگرچہ مختلف شکلیں اختیار کرتے رہتے ہیں، مگر ان کا بنیادی طریقۂ کار تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ جب تک قانون پر مؤثر عملدرآمد، مالی شفافیت، عوامی شعور اور مضبوط ریگولیٹری نظام ایک ساتھ فروغ نہیں پاتے، تب تک ایسے نظام ختم ہونے کے بجائے نئی صورتوں میں دوبارہ سامنے آتے رہیں گے، اور عام شہری ان کے سب سے بڑے متاثرین بنتے رہیں گے۔