میرپورخاص:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں سٹریٹ موومنٹ ریلی میرپورخاص پہنچ گئی، جہاں وزیراعلی نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور 27ستمبر کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے جیسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعوی کیا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ بھارت کو دوست کہتی ہیں اور بھارت سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن پاکستان کے سرحدی صوبوں کے عوام سے مسئلہ ہے،ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران عوام کو غربت، جہالت اور بھوک میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور ان کے مفادات عوام کے مفادات سے متصادم ہیں۔
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبرپختونخوا کا بجٹ 3300 ارب روپے ہو تو عوام کو ترقی، سکول، کالجز اور ہسپتال کیوں نہ ملیں۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اسٹریٹ موومنٹ کی عوامی طاقت نے کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے حکمرانوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ عوام کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم دن ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی گرفتاری اور جیل میں قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ عمران خان جیل جانے کے بعد ٹوٹ جائیں گے، لیکن وہ اپنی قوم کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا، ان کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا گیا اور ان کے رشتہ داروں کو بھی مبینہ طور پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
سہیل آفریدی نے دعوی کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، جبکہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرانے کا فیصلہ دیا۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے موجودہ حکمرانوں پر عدلیہ کو دبا میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موجودہ ججز سے انصاف کی توقع نہیں، اسی لیے عمران خان کی نظریں پاکستان کے نوجوانوں اور عوام پر ہیں۔
سہیل آفریدی نے اجتماع کے شرکا سے اپیل کی کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچیں،اگر ٹرانسپورٹ دستیاب ہو تو اس کے ذریعے، جبکہ ضرورت پڑنے پر موٹر سائیکل، سائیکل یا پیدل بھی اسلام آباد پہنچا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں قربانی دینا پڑی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور عمران خان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو نہیں کھویا جاسکتا اور حقیقی آزادی کے لیے عوام کو باہر نکلنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خاندانی سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غلام ابنِ غلام کا سلسلہ مزید نہیں چل سکتا،پہلے نانا، پھر باپ، پھر ماں اور اب ان کی اولاد اقتدار میں ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ مڈل اور عام طبقے سے آئے ہیں اور عوام کو بھی آگے بڑھ کر اپنی قیادت خود سنبھالنی ہوگی،عوام کرپٹ اور ظالم لوگوں کی مزید غلامی قبول نہیں کرسکتے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو پالیسیاں عوام کے مفاد میں نہیں، ان کے خلاف وہ باغی ہیں حکمرانوں کو اقتدار میں لانے والوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے ڈان لیکس اور میموگیٹ اسکینڈلز کا حوالہ دیا۔
سہیل آفریدی نے دعوی کیا کہ جن لوگوں نے ماضی میں اسمبلی کے فلور کو ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا، آج وہی پاکستان پر مسلط ہیں۔
انہوں نے اجتماع سے سوال کیا کہ کون ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہے اور کہا کہ عوام نہ صرف حکمرانوں بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والوں سے بھی ناراض ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ عوام خود کریں گے۔
خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کراچی کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیار رہیں، کیونکہ اسٹریٹ موومنٹ اگلے مرحلے میں کراچی کا رخ کرے گی