صحت کے شعبے میں ابلاغ کی بدلتی دنیا اور ایک نئی نسل کے میڈیا پروفیشنلز کا کردار
ایک وقت تھا جب اسپتال کی کہانی اس کے دروازوں سے شروع ہو کر وہیں ختم ہوجاتی تھی۔ اندر ڈاکٹرز، نرسز، لیبارٹریاں، آپریشن تھیٹرز اور مریض ہوتے تھے، جبکہ باہر موجود عوام تک معلومات اخبارات، ٹیلی وژن یا کسی رسمی اعلان کے ذریعے پہنچتی تھیں۔ لیکن اب یہ فاصلہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ آج ایک جدید اسپتال بیک وقت دو دنیاؤں میں موجود ہے۔ ایک وہ دنیا جہاں مریضوں کا علاج ہوتا ہے، آپریشنز کیے جاتے ہیں، تحقیق ہوتی ہے اور طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں؛ اور دوسری وہ دنیا جو موبائل اسکرین، اخبارات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا پر تشکیل پاتی ہے۔ کسی طبی کامیابی کی خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کسی تحقیقی مقالے کا نتیجہ اپنے ادارے کی حدود سے نکل کر قومی سطح پر زیرِ بحث آسکتا ہے۔ صحت سے متعلق آگاہی کا ایک پیغام بیک وقت ہزاروں خاندانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر رفتار کے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی پیدا ہوئی ہے۔ صحت کے شعبے میں صرف سب سے پہلے خبر دینا کافی نہیں؛ درست خبر دینا زیادہ اہم ہے۔ ایک اسپتال کی خبر بظاہر چند سطروں پر مشتمل ہوسکتی ہے، لیکن ان چند سطروں کے پیچھے معلومات کی تصدیق، طبی اصطلاحات کو سمجھنا، خبر کی اہمیت کا تعین کرنا اور اسے عام قاری کے لیے قابلِ فہم بنانا شامل ہوتا ہے۔ یہیں سے صحت اور میڈیا کے درمیان ایک نئی نوعیت کا رشتہ جنم لیتا ہے۔ یہ تبدیلی خیبر پختونخوا کے معروف طبی ادارے نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں بھی محسوس کی جاسکتی ہے، جہاں طبی خدمات کے ساتھ ساتھ ادارے کی سرگرمیوں، تحقیق، آگاہی اور اہم پیش رفت کو عوام تک پہنچانے کے لیے ایک منظم ابلاغی نظام کام کرتا ہے۔ اسی بدلتی ہوئی دنیا میں خضر حیات کی پیشہ ورانہ کہانی سامنے آتی ہے۔ لیکن یہ محض ایک نوجوان میڈیا پروفیشنل کی ترقی کی کہانی نہیں۔ یہ اس بڑے سوال کی ایک مثال ہے کہ آج کے دور میں ایک صحت کے ادارے اور عوام کے درمیان رابطہ کس طرح تبدیل ہورہا ہے۔ خضر حیات کا پیشہ ورانہ سفر ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے شروع ہوا، جہاں توجہ حاصل کرنا، تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل رجحانات کو سمجھنا اور مختلف طبقات کے رویوں کا مشاہدہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں داخل ہونے کے بعد یہی مہارتیں ایک مختلف ماحول سے دوچار ہوئیں۔ یہاں صرف توجہ حاصل کرنا کافی نہیں تھا۔ یہاں ایک طبی پیش رفت کو درست تناظر کے ساتھ پیش کرنا تھا۔ ایک تحقیقی مضمون کو اس انداز میں بیان کرنا تھا کہ اس کی سائنسی اہمیت برقرار رہے لیکن عام قاری بھی اسے سمجھ سکے۔ صحت سے متعلق آگاہی کو اس انداز میں عوام تک پہنچانا تھا کہ معلومات مفید بھی ہو اور ذمہ دارانہ بھی۔ یوں ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے حاصل ہونے والا تجربہ محض ایک سابقہ پیشہ ورانہ پس منظر نہیں رہا، بلکہ صحت کے شعبے میں ابلاغ کے ایک نئے انداز کا حصہ بن گیا۔ آج خضر حیات نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے سربراہِ شعبہ اور آفیشل ترجمان کے طور پر ان ذمہ داریوں کے سنگم پر کام کررہے ہیں جہاں ادارہ جاتی ابلاغ، صحافت، ڈیجیٹل میڈیا اور عوامی معلومات ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ اس کام کا بڑا حصہ ایسا ہے جو عوام کو دکھائی نہیں دیتا۔ روزانہ اسپتال میں ہونے والی پیش رفت کو مانیٹر کرنا، اہم معلومات کو ترتیب دینا، تحقیقی اور طبی مضامین کا جائزہ لینا، اسپتال کے نیوز لیٹر کے لیے مواد تیار کرنا اور مقامی و قومی پرنٹ میڈیا تک متعلقہ معلومات پہنچانا اس ذمہ داری کا حصہ ہے۔ بظاہر یہ معمول کا کام ہے۔ لیکن اسی معمول میں اصل چیلنج چھپا ہوا ہے۔ کون سی خبر اہم ہے؟ کون سی معلومات فوری طور پر عوام تک پہنچنی چاہیے؟ کسی پیچیدہ طبی موضوع کو کس طرح آسان الفاظ میں بیان کیا جائے؟ اور سب سے اہم سوال—کسی طبی ادارے کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے معلومات اور تشہیر کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟ یہ سوال صرف ایک اسپتال تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں صحت کے ادارے ایسے ماحول میں کام کررہے ہیں جہاں معلومات کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ ہے، لیکن معلومات کی درستگی ہمیشہ اسی رفتار سے نہیں چلتی۔ سوشل میڈیا نے اداروں کو براہِ راست عوام تک پہنچنے کا موقع دیا ہے، مگر اسی کے ساتھ غلط معلومات، ادھوری معلومات اور غیر ذمہ دارانہ دعووں کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسپتال کا میڈیا اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ صرف پریس ریلیز جاری کرنے یا سوشل میڈیا پوسٹس بنانے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ادارے اور عوام کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔ ایک ایسا پل جس کے ایک طرف ڈاکٹر، محقق، طبی ماہرین اور ادارہ ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ عام شہری ہوتا ہے جو شاید کسی طبی اصطلاح، تحقیقی نتیجے یا نئی طبی سہولت کو پہلی بار سمجھنے کی کوشش کررہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے شعبے میں ابلاغ کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جارہا ہے۔ خضر حیات کا بطور نوجوان سربراہِ میڈیا سامنے آنا اسی وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ شناخت ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتی ہے جہاں روایتی میڈیا، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ادارہ جاتی کمیونیکیشن کی سرحدیں تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں۔ مگر صحت کے شعبے میں ان تمام مہارتوں کے ساتھ ایک اور چیز ضروری ہے: ذمہ داری۔ کیونکہ یہاں ایک سرخی محض ایک سرخی نہیں ہوتی۔ ایک طبی خبر کسی مریض کے فیصلے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ ایک آگاہی پیغام کسی خاندان کو بروقت طبی مدد لینے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ ایک تحقیقی خبر کسی عام قاری کے لیے کسی پیچیدہ بیماری کو سمجھنے کا پہلا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے بہترین صحت کا ابلاغ صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا ہوا۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کیوں اہم ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ پروفیشنل اور ایک ہیلتھ کیئر کمیونیکیٹر کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ مارکیٹنگ میں پیغام کو نمایاں کرنا مقصد ہوسکتا ہے۔ صحت کے ابلاغ میں پیغام کو قابلِ اعتماد بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر جیسے ادارے میں یہ ذمہ داری مزید اہم ہوجاتی ہے، کیونکہ یہاں روزانہ طبی خدمات کے ساتھ تحقیق، آگاہی، تربیت اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت بھی جنم لیتی ہے۔ ان سرگرمیوں کی عوام تک رسائی صرف ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ عوامی معلومات کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں خضر حیات کا سفر ایک فرد کی کہانی سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسی نسل جو روایتی میڈیا کو سمجھتی ہے، ڈیجیٹل دنیا میں پلی بڑھی ہے اور اب ایسے شعبوں میں ذمہ داریاں سنبھال رہی ہے جہاں ابلاغ براہِ راست انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی امتزاج ہے۔ صحافت کی حساسیت۔ ڈیجیٹل دنیا کی رفتار۔ اور صحت کے شعبے کی ذمہ داری۔ مستقبل کا کامیاب ہیلتھ کیئر کمیونیکیٹر شاید مکمل طور پر صحافی بھی نہ ہو، مکمل طور پر مارکیٹر بھی نہیں اور صرف پبلک ریلیشنز پروفیشنل بھی نہیں۔ شاید اسے ان تینوں دنیاوں کو سمجھنا ہوگا—اور یہ بھی جاننا ہوگا کہ کس موقع پر کس کردار کی ضرورت ہے۔ خضر حیات کا سفر اسی تبدیلی کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ ایک ایسے سفر کے طور پر جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے شروع ہوا، صحت کے شعبے میں داخل ہوا اور آج ادارہ جاتی ابلاغ، میڈیا اور عوامی معلومات کے ایک ایسے مقام تک پہنچا ہے جہاں ہر خبر کے پیچھے ایک سوال موجود رہتا ہے: عوام کو کیا بتایا جائے، کیسے بتایا جائے، اور کیوں بتایا جائے؟ کیونکہ آج کے دور میں اسپتال صرف علاج نہیں کرتے۔ وہ معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ اور جب معلومات اتنی ہی تیزی سے سفر کرتی ہوں جتنی تیزی سے علاج اور ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہے ہوں، تو اس معلومات کو درست، ذمہ دارانہ اور قابلِ فہم انداز میں عوام تک پہنچانا بھی کسی خدمت سے کم نہیں۔ آخرکار، صحت کی اصل کہانی ڈاکٹرز، نرسز، محققین اور مریض لکھتے ہیں۔ لیکن اس کہانی کو عوام تک پہنچانے والے بھی اب اس داستان کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اور شاید یہی اصل کہانی کے پیچھے چھپی ہوئی کہانی ہے