کیا موجودہ نظام کاشتکاروں اور صنعت کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیاب ہے؟
تجزیہ: شمس الحق
تمباکو خیبر پختونخوا کی اہم ترین نقد آور فصلوں میں شمار ہوتی ہے۔ مردان، صوابی، چارسدہ، مانسہرہ اور بعض دیگر اضلاع اس کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔ اگرچہ چند برس قبل پنجاب کے ضلع گجرات میں بھی تمباکو کی کامیاب کاشت کی گئی، تاہم آج بھی پاکستان کی مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ خیبر پختونخوا ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل قابلِ کاشت رقبے کا تقریباً ایک فیصد حصہ تمباکو کی کاشت کے لیے مختص ہے، جبکہ اس کی زیادہ تر پیداوار سگریٹ سازی کی صنعت میں استعمال ہوتی ہے۔
تمباکو کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت کے ساتھ کاشتکاروں اور خریداری کرنے والی کمپنیوں کے درمیان قیمت، خریداری، گریڈنگ اور ادائیگیوں کے تنازعات بھی شدت اختیار کرتے گئے۔ انہی مسائل کے پیش نظر وفاقی حکومت نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB) قائم کیا، جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں تمباکو کی فصل کی نگرانی، قیمتوں کا تعین، برآمدات کا فروغ اور فصل کی ترقی شامل ہیں۔ اسی ادارے کی نگرانی میں ہر سال کم از کم قیمت مقرر کی جاتی ہے، خریداری کے قواعد بنائے جاتے ہیں اور کمپنیوں کی کارکردگی پر نظر رکھی جاتی ہے۔
اس کے باوجود کاشتکاروں کی بڑی تعداد پاکستان ٹوبیکو بورڈ پر جانبداری کا الزام عائد کرتی ہے۔ کسان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بورڈ عملاً بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کا محافظ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کا استحصال ہوتا ہے اور کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچتا ہے۔
اسی تناظر میں گزشتہ روز مردان پریس کلب میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے نمائندوں نے ایک پریس بریفنگ میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران کی اصل ذمہ داری بعض مقامی اور چھوٹی کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے، جو نہ صرف ٹیکس چوری میں ملوث ہیں بلکہ کاشتکاروں کو بروقت ادائیگی بھی نہیں کرتیں۔ کمپنی کے مطابق وہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی پالیسی اور ملکی قوانین کے مطابق فصل خریدنے کے بعد 30 دن کے اندر تمام ادائیگیاں مکمل کرتی ہے اور آج تک کسی کاشتکار کی رقم ان کے ذمے واجب الادا نہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کے برعکس کئی مقامی کمپنیوں پر گزشتہ برس کی ادائیگیاں اب بھی بقایا ہیں۔
کمپنی کے نمائندوں نے موجودہ قوانین کو بعض حوالوں سے صنعت کے لیے بھی غیر متوازن قرار دیا۔ ان کے مطابق ہر سال حکومت تمباکو کی کم از کم قیمت مقرر کرتی ہے جس میں اضافہ تو ممکن ہے لیکن کمی نہیں کی جا سکتی۔ مزید یہ کہ موجودہ ضابطوں کے تحت اگر کاشتکار مقررہ مقدار سے زیادہ تمباکو بھی پیدا کر لے تو کمپنیوں پر اس کی خریداری کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نسبتاً کم مدت، تقریباً چھ ماہ میں تیار ہونے والی ایسی فصل ہے جو پانی کی کمی اور شدید گرمی کو برداشت کر لیتی ہے، جبکہ فصل جلد اٹھ جانے سے کسان اسی زمین پر دوسری فصل بھی کاشت کر سکتا ہے، اس لیے قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا مطالبہ معاشی طور پر درست نہیں۔
پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تمباکو سے حاصل ہونے والے مجموعی ٹیکسوں کا تقریباً 95 فیصد دو بڑی کمپنیوں کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی کمپنیاں مجموعی طور پر صرف پانچ فیصد ٹیکس جمع کراتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ٹوبیکو بورڈ ہر سال کمپنیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق کوٹہ جاری کرتا ہے، جس کی بنیاد پر کاشتکاروں کے ساتھ معاہدے کیے جاتے ہیں، لیکن بعض کسان معاہدے کے بغیر یا معاہدے سے زیادہ رقبے پر تمباکو کاشت کرتے ہیں، جس سے اضافی پیداوار پیدا ہوتی ہے اور اس کی خریداری تمام کمپنیوں کے لیے ممکن نہیں رہتی۔
دوسری جانب کسان بورڈ خیبر پختونخوا کے صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالصمد صافی ان دلائل سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کی اصل ذمہ دار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قانون کے مطابق کمپنیوں پر تمباکو کے تمام 17 گریڈ خریدنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مگر عملی طور پر بڑی کمپنیاں صرف اعلیٰ درجے کا تمباکو خریدتی ہیں جبکہ درمیانے اور نچلے درجے کے تمباکو کو لینے سے انکار کر دیتی ہیں، جس سے ہزاروں کاشتکار مالی نقصان اٹھاتے ہیں۔
عبدالصمد صافی نے مزید الزام لگایا کہ معاہدے حقیقی کاشتکاروں کے بجائے بعض غیر متعلقہ اور بااثر افراد کو دیے جاتے ہیں، جس سے اصل کسان محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض چھوٹی کمپنیوں کے خلاف ادائیگیوں میں تاخیر کی شکایات موجود ہیں، تاہم انہی کمپنیوں کی موجودگی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا برقرار رکھتی ہے، ورنہ بڑی کمپنیاں مکمل اجارہ داری قائم کر لیتیں۔ انہوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے طرزِ عمل کو “ایسٹ انڈیا کمپنی” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوری منڈی پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہیں۔
کسان رہنما نے وفاقی حکومت کی جانب سے سبز تمباکو کے پتے پر 390 روپے فی کلوگرام ٹیکس کو بھی غیر منصفانہ قرار دیا۔ ان کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں خام پتے پر نہیں بلکہ تیار شدہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی ٹیکس کا موجودہ نظام تبدیل کیا جانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس تنازعے میں دونوں فریق اپنے اپنے دلائل رکھتے ہیں۔ کمپنیاں سرمایہ کاری، ٹیکس ادائیگی اور قانونی ضابطوں کی پابندی کو بنیاد بنا کر اپنا مؤقف پیش کرتی ہیں، جبکہ کاشتکار بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، مہنگائی، گریڈنگ کے طریقہ کار اور کم قیمتوں کو اپنے مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ کا کردار سب سے اہم ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اسے کمپنیوں اور کاشتکاروں کے درمیان غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
تمباکو چونکہ خیبر پختونخوا، بالخصوص مردان ڈویژن، کی دیہی معیشت کا اہم ستون ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، پاکستان ٹوبیکو بورڈ، کمپنیوں اور کسان تنظیموں کے درمیان ایسا قابلِ اعتماد اور شفاف نظام وضع کیا جائے جس میں قیمتوں کے تعین، گریڈنگ، معاہدوں، ٹیکسوں اور ادائیگیوں کے معاملات پر مکمل شفافیت ہو۔ جب تک تمام فریقوں کے تحفظات کو قانون اور عملی اقدامات کے ذریعے دور نہیں کیا جاتا، تمباکو کی یہ نقد آور فصل ہر سال نئے تنازعات کو جنم دیتی رہے گی، جس کا سب سے زیادہ نقصان ان کسانوں کو ہوگا جن کی روزی روٹی کا انحصار اسی فصل پر ہے۔
مضمون نگار محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔