چارسدہ:سرڈھیری سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی 15 سالہ بچی طیبہ کو پولیس نے 36 گھنٹوں کے اندر ہنگو سے بحفاظت بازیاب کرلیا، جبکہ کارروائی کے دوران دو مبینہ ملزمان ریاض اور شوکت کو گرفتار کرلیا گیا۔
ڈی پی او چارسدہ کے مطابق رشتے سے انکار پر ریاض نے ساتھیوں کے ہمراہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کیا تھا، بچی کی بازیابی کے لیے پولیس کی 4 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔
ڈی پی او کے مطابق مغوی بچی کے موبائل فون کی لوکیشن نے پولیس کو ملزمان تک پہنچنے میں مدد دی۔ موبائل فون بند ہونے کے باوجود پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور اپنے ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگایا۔
پولیس نے درسمند میں موبائل کی آخری لوکیشن ٹریس کرنے کے بعد کارروائی کی۔
لیڈیز پولیس کے ہمراہ علاقے کا محاصرہ کرکے دو مبینہ ملزمان ریاض اور شوکت کو گرفتار کیا گیا اور مغوی بچی کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔
ڈی پی او چارسدہ نے کہا کہ پولیس نے 36 گھنٹوں میں بچی کو بازیاب کرکے اپنے حلف کی پاسداری کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ اور رعایت نہیں، شہریوں کا تحفظ اور امن و امان کی بحالی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔