پشاور(بیورورپورٹ)وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور ریوائیٹلائزیشن پلان کے تحت مزید دو اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا جن میں شہر کی اہم شاہراہوں اور روٹس کی اپگریڈیشن اور پشتخرہ چوک انڈر پاس کی تعمیر شامل ہیں۔ یہ منصوبے مجموعی طور پر 9.3 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیے جائیں گے۔اہم شاہراہوں اور روٹس کی اپگریڈیشن منصوبے کے فیز ون میں شہر کی 19 اہم شاہراہوں اور روٹس کی اپ گریڈیشن، تزئین و آرائش اور بہتری شامل ہے۔ یہ منصوبہ 7.2 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے فیز ون اے میں 9 اہم سڑکیں جبکہ فیز ون بی میں 7 سڑکیں اور دیگر روٹس شامل ہیں۔ فیز ون اے میں باچا خان چوک تا پجگی رنگ روڈ، دلازاک روڈ، باچا خان چوک تا ناردرن بائی پاس روڈ، اشرف روڈ تا سرکلر روڈ، ہشت نگری روڈ، فقیر آباد روڈ، خیبر بازار تا کوہاٹ روڈ (رامداس)، سنیما روڈ، ایل آر ایچ روڈ، رامداس چوک تا جی ٹی روڈ اور لاہوری چوک تا انعم صنم چوک روڈ شامل ہیں۔ اسی طرح فیز ون بی میں کوہاٹ روڈ تا باڑہ پل، یونیورسٹی روڈ تا کینال روڈ اور باڑہ روڈ تا سفیون چوک روڈ، سواتی پھاٹک روڈ تا رنگ روڈ، رنگ روڈ اچینی تا یونیورسٹی روڈ (اسپن جماعت)شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیز ون بی میں حیات آباد کے داخلی راستے، حیات آباد کی اہم شاہراہیں اور باونڈری وال بھی شامل ہیں۔پشتخرہ چوک انڈر پاس کی تعمیر کا منصوبہ 2.1 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے شروع کیا گیا ہے جو تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔منصوبوں پر کام کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 200 ارب روپے مالیت کے پشاور ریوائیٹلائذیشن پلان کے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے اور ان منصوبوں کو مقررہ مدت سے پہلے مکمل کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام تر کاوشوں کا مقصد عوام کی خوشحالی اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی ہے، عمران خان کے خواب اور وڑن کے مطابق ایک طرف حقیقی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور دوسری طرف عوامی خدمت بھی بہترین انداز میں جاری ہے۔وزیراعلی نے اس موقع پر عوام کے پرزور مطالبے پر پشتخرہ چوک انڈرپاس کو فیاض خلیل شہید چوک سے موسوم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو غیر ضروری تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وزیراعلی نے ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ کون عالم اسلام کے نڈر لیڈر عمران خان کو ڈرانے اور دبانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ عمران خان ایک نظریے کا نام ہے جو کسی صورت جھکنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے اور حکومت عمران خان کے خلاف طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرچکے ہیں، لیکن نہ وہ عمران خان کو جھکا سکے اور نہ تحریک انصاف کو کمزور کرسکے۔ ہم اپنے لیڈر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور روز بروز ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمران خان کے وژن کے مطابق بہتر اور شفاف طرز حکمرانی کے ذریعے صوبے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پہلے 93 ارب روپے ریونیو جمع ہوتا تھا، لیکن صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال 150 ارب روپے ریونیو جمع کیا۔ رواں مالی سال 200 ارب روپے ریونیو جمع کرکے دکھائیں گے، وہ بھی اس کے باوجود کہ حکومت نے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ دوسری جانب مرکز کی جعلی حکومت پانچ بجٹ پیش کرچکی ہے، لیکن ملک کے حالات مسلسل بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کیا جا رہا ہے، ان کے پاس کوئی پالیسی نہیں اور انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں۔ غریب عوام رو رہے ہیں اور اب سفید پوش طبقہ بھی قرضے لینے پر مجبور ہوچکا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والے عمران خان کو جھکانے میں لگے ہوئے ہیں، مگر کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے کبھی آئین اور قانون کو پامال نہیں کیا جس طرح یہ لوگ کرتے آرہے ہیں۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ بیان انتہائی افسوسناک ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ مذکورہ بیان نے ریاست پاکستان کے مضبوط بیانیے کو ہی الٹ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر مودی کے یاروں کو مسلط کردیا گیا ہے، وہ جو بھی کہیں ان کے لیے معافی ہے کیونکہ وہ لاڈلے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارا کوئی کارکن پرامن احتجاج کی بات کرے تو اسے قید کرلیا جاتا ہے۔ ملک میں فسطائیت کی انتہا ہوچکی ہے۔ وزیراعلی نے مزید کہا کہ اب بیرون ملک دھڑا دھڑ دورے کیے جارہے ہیں اور عوام کا پیسہ تباہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو عوام اپنا فیصلہ کریں گے اور ان شااللہ راج عوام کا ہوگا۔میانوالی سے لاہور اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے وزیراعلی نے کہا کہ اس پلان کو فی الحال موخر کردیا گیا ہے۔ وہ اپنے شہید کارکن کی تعزیت کے لیے جائیں گے اور اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کارکن میلاد النبی کی تیاریوں میں مصروف تھا اور اسے اٹھا کر تیل کی کڑاہی میں پھینک دیا گیا جو اب شہید ہو چکا ہے۔ اس سے بڑی بے حسی اور فسطائیت اور کیا ہوسکتی ہے، یہ لوگ ظلم کی تمام حدیں عبور کرچکے ہیں