ایئر چیف کا شہداء کو سلام، وطن کا دفاع مقدس امانت، اسے ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے
اسلام آباد (محمداً صف آ صی ) پاک فضائیہ میں 7 ستمبر کو یومِ شہداء کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں پاک فضائیہ کے تمام بیسسز پر شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور فرض سے وفاداری، شجاعت اور بے مثال بہادری کو سلام پیش کیا گیا۔ دن کا آغاز شہدائے پاک فضائیہ کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا اور قرآن خوانی سے ہوا، جس میں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں، معرکہ حق اور قیامِ پاکستان سے آج تک فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے پاک فضائیہ کے جانبازوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں یومِ شہداء کی مرکزی تقریب کے مہمانِ خصوصی سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں پاک فضائیہ کی شجاعت، پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعِ وطن کے لیے غیر متزلزل عزم کی قابلِ فخر روایت کی بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء جرأت، قربانی اور قومی عزم کی لازوال علامت ہیں، ان کی میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وطن کا دفاع ایک مقدس امانت ہے جسے ثابت قدمی اور غیر متزلزل وابستگی کے ساتھ نبھانا ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پی اے ایف پاکستان کی خودمختاری اور فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آپریشنل تیاری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے معرکہ حق کے دوران پاک فضائیہ کی کامیابی کو اس کی پیشہ ورانہ برتری، جنگی صلاحیت اور اعلیٰ آپریشنل استعداد کا ثبوت قرار دیا۔
ایئر چیف نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی روشنی میں عصرِ حاضر کی جنگی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی میں پاک فضائیہ کو صفِ اول میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خلائی، سائبر اور برقی جنگی صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے ذریعے پاک فضائیہ کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
بعد ازاں سربراہ پاک فضائیہ نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔