پشاور (نمائندہ پختونخوا نیوز) پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) پشاور کے زیر اہتمام ’’میثاقِ مکہ‘‘ کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی ڈی رومانہ اسد خان نے کی، جبکہ سینئر صحافی امجد عزیز ملک نے کلیدی خطاب کیا۔ ورکشاپ میں آصف ودود، سید قیصر رضوی، شاہدہ پروین، عمران خان، عدنان خان، شائستہ اور مہ وش سمیت مقامی صحافیوں نے شرکت کی۔
سینئر صحافی امجد عزیز ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سفارتی قیادت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دفاعی کردار اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی متحرک خارجہ پالیسی پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک اہم مقام دلانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میثاقِ مکہ برائے مشترکہ دفاع پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں اہم پیش رفت ہے، جس نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو ایک نئے اسٹریٹجک فریم ورک میں ڈھال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں سیاسی، معاشی، تکنیکی اور عوامی سطح پر تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کرسکتا ہے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع، دفاعی صلاحیت، سفارتی تجربے اور مسلم دنیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے باعث اس نئے تعاون کے ڈھانچے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مقررین کے مطابق میثاقِ مکہ کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوا، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت نے اس امر کی عکاسی کی کہ پاکستان اس معاہدے کو محض سیاسی اعلامیہ نہیں بلکہ قابلِ عمل دفاعی و اسٹریٹجک تعاون میں تبدیل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اجلاس میں دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری و پیداوار اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی ڈی رومانہ اسد خان نے کہا کہ میثاقِ مکہ کے تحت قائم ہونے والے سیکرٹریٹ کا قیام سعودی عرب میں ہوگا جبکہ پہلے سیکرٹری جنرل کی تین سالہ مدت کے لیے پاکستان سے تقرری پاکستان کے لیے اہم سفارتی کامیابی اور بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں ممالک پاکستان کو نئے دفاعی و اسٹریٹجک تعاون کے ڈھانچے میں اہم کردار دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میثاقِ مکہ کے بعد پاکستان کے لیے معاشی اور اقتصادی امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور صنعتی تعاون سے روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سعودی اور ترک سرمایہ کاری کو توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کی جانب منظم انداز میں راغب کیا جائے تو ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے تاہم واضح کیا کہ ان معاشی فوائد کے حصول کے لیے معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، پالیسیوں کا تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔