کوہاٹ (نمائندہ خصوصی) خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانے پولیس لائنز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانے پولیس لائنز کے قریب بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، تاہم دھماکے کی حتمی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کا مسلح دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری رہا، جبکہ ایک دہشتگرد سنائپر کے مقابلے میں مارے جانے کی اطلاع ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینسز، ریکوری وہیکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او کوہاٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔ آئی جی نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، خیبرپختونخوا پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔