مالاکنڈ:بٹ خیلہ بائی پاس پر فائرنگ کے معاملے میں نیا موڑ آگیا، سی ٹی ڈی باجوڑ ریجن نے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے مواصلات و تعمیرات شکیل احمد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا، جبکہ صوبائی وزیر نے بھی نامعلوم مسلح افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دے دی۔
رات گئے درج کی گئی ایف آئی آر میں زخمی سی ٹی ڈی اہلکار نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ معمول کی ڈیوٹی پر تھا کہ بٹ خیلہ بائی پاس پر ایک ویگو گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آکر رک گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق شکیل احمد، ارشد، اقبال خان اور ایک نامعلوم شخص گاڑی سے اترے اور اہلکاروں پر مبینہ طور پر آتشیں اسلحے سے فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار کی کمر پر گولی لگی اور وہ زخمی ہوگیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی محفوظ رہے۔
ایف آئی آر میں فائرنگ سے سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، مقدمے میں صوبائی وزیر شکیل احمد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت مختلف دفعات عائد کی گئی ہیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیر شکیل احمد نے ڈپٹی کمشنر و کمانڈنٹ مالاکنڈ لیویز، اسسٹنٹ کمشنر و ڈپٹی کمانڈنٹ مالاکنڈ لیویز بٹ خیلہ اور لیویز پوسٹ بٹ خیلہ کے پوسٹ کمانڈر کو دی گئی درخواست میں نامعلوم مسلح افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں شکیل احمد نے موقف اختیار کیا کہ انہیں گزشتہ چند روز سے اغوا اور قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے باعث انہوں نے اپنی سیکیورٹی بڑھا دی تھی اور نقل و حرکت محدود کردی تھی۔
درخواست کے مطابق 20ستمبر کو وہ اپنے حلقہ انتخاب میں پارٹی کارکنوں سے رابطے کے لیے طوط کان پیرخیل روانہ ہوئے، جہاں سیکیورٹی عملے نے انہیں ایک سلور گرے رنگ کی موٹر کار کی جانب سے مسلسل تعاقب کیے جانے سے آگاہ کیا۔ اس پر انہوں نے احتیاطا ایک دوست کے گھر کچھ دیر قیام کیا۔
شکیل احمد کے مطابق بعد ازاں وہ تھانہ بٹ خیلہ گئے اور عصر کے قریب تقریبا 5 بجے گھر کی جانب روانہ ہوئے۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز ہسپتال، صبر شاہ بائی پاس کے قریب لیویز پوسٹ بٹ خیلہ کے علاقے میں وہی سلور گرے موٹر کار ایک مرتبہ پھر ان کا تعاقب کرتی نظر آئی۔
درخواست کے مطابق گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک نقاب پوش شخص، اگلی نشست پر خاکی لباس میں ملبوس ایک شخص جبکہ پچھلی نشست پر تین دیگر مسلح افراد موجود تھے۔ شکیل احمد نے الزام عائد کیا کہ گاڑی قریب آنے پر اگلی نشست پر موجود شخص نے پستول سے فائرنگ شروع کردی، جبکہ پچھلی نشست پر موجود مسلح افراد نے بھی فائرنگ کی۔
صوبائی وزیر کے مطابق ان کے سیکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ حملے کے جواب میں دفاعی فائرنگ کرتے ہوئے گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا، جبکہ ڈرائیور گاڑی کو تیزی سے جائے وقوعہ سے نکال کر گھر کی جانب لے گیا۔ درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ مسلح افراد نے تعاقب کرتے ہوئے فائرنگ جاری رکھی۔
شکیل احمد نے نامعلوم ملزمان کے خلاف اغوا اور قتل کی مبینہ کوشش کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے