پشاور:وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا کے جنازوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا انتہائی قابلِ افسوس ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ محسن نقوی شہدا کے جنازوں کو سیاسی بیان بازی کا موضوع نہ بنائیں۔
ان کے بقول شہدا کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے جنازوں کو سیاسی معاملات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی وزرا کی مسلسل پریس کانفرنسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے شدید خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وفاقی وزیر قانون کی بات کرتے ہیں تو انہیں آئین میں دیے گئے عوام کے بنیادی حقوق بھی یاد رکھنے چاہئیں۔
شفیع جان نے محسن نقوی کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی سے نمٹنے کے لیے مستقل لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ اگر حکومت سیاسی معاملات کے لیے مستقل لائحہ عمل بنا سکتی ہے تو معاشی استحکام کے لیے ایسا لائحہ عمل کیوں نہیں بنایا گیا۔
شفیع جان نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معیشت کو نقصان پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی نام نہاد تجربہ کار معاشی ٹیم کی وجہ سے پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی دھمکیوں سے پی ٹی آئی ہرگز خوفزدہ نہیں ہوگی،حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان تحریک انصاف طویل عرصے سے حکومتی اقدامات اور دبا کا سامنا کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا کوئی خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے کنٹینر سٹی کیوں بنا دیا گیا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی۔
ان کے مطابق 27ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کا آئینی حق ہے اور اسے دھمکیوں کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا