صحافیوں کے مسائل کے مستقل حل کیلئے قانون کا مسودہ تیار، محکمہ قانون کو ارسال
مردان (سٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا انصار اللہ خلجی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ اطلاعات صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں، تاہم ضلعی سطح پر صحافیوں کے باہمی اختلافات کے باعث مسائل جنم لے رہے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اختلافات ختم کرکے صحافیوں کو متحد کیا جائے تاکہ وہ عوامی مسائل اجاگر کرنے اور ان کے حل کیلئے مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
وہ مردان یونین آف جرنلسٹس (MUJ) کے صدر محمد ریاض مایار کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ وفد میں نائب صدر ارشد خان، جنرل سیکرٹری بن یامین، جوائنٹ سیکرٹری شاہ حسین اور سینئر صحافی سعید باچہ شامل تھے۔
وفد نے ڈی جی اطلاعات کو مردان میں صحافیوں کے درمیان جاری اختلافات اور صحافتی تنظیموں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ مردان پریس کلب کے سابق صدر محمد ریاض مایار، سابق فنانس سیکرٹری پرویز شاہین اور سابق جوائنٹ سیکرٹری شاہ حسین کی رکنیت مبینہ طور پر غیر آئینی طریقے سے ختم کی گئی، جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود بعض صحافیوں کو رکنیت دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے مسائل آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق حل کئے جائیں اور تمام صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ڈی جی اطلاعات انصار اللہ خلجی نے کہا کہ صوبائی حکومت ضلعی سطح پر صحافیوں کے اختلافات ختم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ صحافی باہمی اختلافات ختم کرکے متحد ہوں اور عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن اضلاع میں صحافیوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں، وہاں پریس کلبوں کیلئے گرانٹس فی الحال روک دی گئی ہیں، اختلافات ختم ہونے کے بعد متعلقہ پریس کلبوں کو گرانٹس جاری کی جائیں گی۔
انصار اللہ خلجی نے بتایا کہ صحافیوں کے داخلی اختلافات اور دیگر متعلقہ مسائل کے مستقل حل کیلئے محکمہ اطلاعات نے قانون کا مسودہ تیار کرکے محکمہ قانون کو ارسال کردیا ہے۔ محکمہ قانون سے منظوری کے بعد مجوزہ قانون صوبائی کابینہ اور بعدازاں صوبائی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد صحافیوں اور پریس کلبوں سے متعلق بیشتر مسائل کے مستقل حل میں مدد ملے گی۔
ڈی جی اطلاعات نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ اطلاعات نے صحافیوں کے انڈومنٹ فنڈ میں اضافہ کردیا ہے جبکہ پشاور اور دیگر اضلاع کے صحافیوں کیلئے انڈومنٹ فنڈز الگ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ضرورت کے وقت صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو زیادہ مؤثر مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صحافی برادری کی فلاح و بہبود اور مالی مشکلات کے ازالے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔