تحریر :۔ محمد ریاض بوکی خیل
تعلیمی ادارہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر کی بنیادی اکائی ہوتا ہے۔ سکول میں داخل ہونے والا بچہ صرف کتابیں پڑھنے نہیں آتا بلکہ وہ اپنے اساتذہ کے رویے، کردار اور طرزِ عمل سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اسی لیے استاد کا منصب محض ملازمت نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ جب کسی استاد پر طالب علموں کو جسمانی سزا دینے کا الزام سامنے آئے تو معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے تعلیمی نظام کی نگرانی اور بچوں کے تحفظ کا سوال پیدا ہوجاتا ہے۔مردان کے گورنمنٹ مڈل سکول باڑی چم سے سامنے آنے والے ایک حالیہ معاملے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) مردان نے ڈی ایم استاد شیراز مسیح کو مبینہ طور پر طلبہ کو جسمانی سزا دینے سے متعلق شکایت پر چار ماہ کے لئے معطل کردیا ہے۔ سرکاری حکم نامے کے مطابق معطلی 28 ستمبر 2026 سے 27 جنوری 2027 تک ہوگی۔اہم بات یہ ہے کہ محکمہ تعلیم نے معاملے کو محض معطلی تک محدود نہیں رکھا بلکہ حقائق جاننے کے لئے باقاعدہ انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔ گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائی سکول 3 مردان کے پرنسپل اکبر سعید کو انکوائری افسر مقرر کرکے سات روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب اصل ذمہ داری انکوائری افسر پر عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام فریقین کا مؤقف سنیں، طلبہ، والدین اور سکول انتظامیہ سے متعلق شواہد کا جائزہ لیں اور حقائق کو غیر جانب داری سے سامنے لائیں۔استاد کو معطل کرنا خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ یہ ایک انتظامی اقدام ہے، جبکہ حتمی حقیقت انکوائری کی رپورٹ سے سامنے آئے گی۔ اسی طرح اگر کسی استاد پر الزام لگایا گیا ہے تو اسے اپنا دفاع پیش کرنے کا مکمل موقع ملنا بھی ضروری ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ کسی بے گناہ کو سزا ملے اور نہ کسی شکایت کو محض محکمانہ کارروائی سمجھ کر نظر انداز کیا جائے۔اس معاملے میں بعض ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مذکورہ استاد طلبہ کو اسلامی اذکار اور درود شریف پڑھنے سے مبینہ طور پر منع کرتا تھا، جس کے باعث طلبہ اور والدین میں بے چینی پائی جاتی تھی۔ یہ ایک حساس نوعیت کا دعویٰ ہے، اس لئے اسے حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے باقاعدہ انکوائری کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر ایسی کوئی شکایت موجود ہے تو اس کی بھی غیر جانب دارانہ طور پر تحقیق ہونی چاہیے اور اگر الزام بے بنیاد ہے تو اسے بھی واضح کیا جانا چاہیے۔اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے سکولوں میں بچوں کے ساتھ رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ جسمانی سزا بچے کی اصلاح کا ذریعہ نہیں بلکہ اکثر اس کے ذہن پر خوف اور منفی اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ استاد کی ذمہ داری بچے کو ڈانٹنے یا سزا دینے سے زیادہ اسے سمجھانے، رہنمائی کرنے اور بہتر انسان بنانے کی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ تعلیم صرف شکایت سامنے آنے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے سکولوں میں بچوں کے تحفظ، اساتذہ کے رویوں اور تعلیمی ماحول کی باقاعدہ نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے۔ والدین کو بھی یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اگر ان کے بچے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہوتی ہے تو ان کی شکایت سنی جائے گی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے لائی جائے گی۔مردان کے اس واقعے کی انکوائری صرف ایک استاد کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ یہ بھی واضح کرے گی کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کے حقوق، اساتذہ کی ذمہ داری اور محکمانہ احتساب کو کس سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔بچے قوم کا مستقبل ہیں ان کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے خوف نہیں۔ سکول میں استاد کا رعب ضرور ہو، مگر ایسا رعب جو علم، کردار اور احترام سے پیدا ہو، سزا اور خوف سے نہیں۔