ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی الیما شاہ نے میڈیا کی دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، پروفیشنل ویڈیو ایڈیٹنگ اور فری لانسنگ سمیت میڈیا کے مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والی الیما شاہ کا سفر خیبر پختونخوا میں خواتین کی میڈیا کے شعبے میں بڑھتی ہوئی نمائندگی کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔
میڈیا ایک ایسا شعبہ ہے جو وقت کے ساتھ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک دور میں فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی اور ایڈیٹنگ کو الگ الگ شعبے سمجھا جاتا تھا، لیکن ڈیجیٹل دور نے ان تمام شعبوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ الیما شاہ کی پیشہ ورانہ شناخت بھی اسی تبدیلی کی عکاس ہے، جہاں ایک ہی فرد تخلیقی تصور سے لے کر کیمرہ ورک، ویڈیو پروڈکشن اور حتمی ایڈیٹنگ تک مختلف مراحل میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
کیمرے کے پیچھے ایک مختلف سفر
الیما شاہ کی شناخت صرف ایک فوٹوگرافر یا ویڈیوگرافر تک محدود نہیں۔ وہ میڈیا کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں اور فوٹوگرافی کے ساتھ ساتھ ویڈیو پروڈکشن اور پروفیشنل ایڈیٹنگ میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔
فوٹوگرافی محض کیمرہ استعمال کرنے کا نام نہیں بلکہ کسی لمحے، شخصیت یا واقعے کو ایک مخصوص زاویے سے محفوظ کرنے کا فن ہے۔ اسی طرح ویڈیوگرافی میں منظر کے ساتھ کہانی، جذبات اور ماحول کو بھی سمجھنا پڑتا ہے، جبکہ ایڈیٹنگ خام مواد کو ایک مکمل اور بامقصد کہانی میں تبدیل کرنے کا مرحلہ ہے۔
الیما شاہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تجربہ ان مختلف مراحل کو ایک ہی دائرے میں لے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار ان میڈیا پروفیشنلز میں کیا جاتا ہے جنہوں نے ایک مخصوص شعبے تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے میڈیا کے متعدد پہلوؤں میں اپنی صلاحیتیں پیدا کیں۔
خیبر پختونخوا میں خواتین کے لیے ایک مختلف مثال
خیبر پختونخوا میں خواتین کی مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں شرکت گزشتہ برسوں میں نمایاں ہوئی ہے، تاہم میڈیا، فوٹوگرافی اور فیلڈ پروڈکشن جیسے شعبوں میں خواتین کے لیے راستہ اب بھی نسبتاً مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں الیما شاہ کا فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، ایڈیٹنگ اور فری لانسنگ جیسے شعبوں میں فعال ہونا ایک منفرد پیشہ ورانہ سفر کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی پہلی خواتین میڈیا پروفیشنلز میں شامل ہیں جنہوں نے میڈیا کے اتنے وسیع دائرے میں مہارت حاصل کی۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ خواتین صرف میڈیا کے سامنے نظر آنے والے کرداروں تک محدود نہیں بلکہ کیمرے کے پیچھے، پروڈکشن، ایڈیٹنگ اور تخلیقی عمل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
فری لانسنگ سے وسیع مواقع تک
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے فری لانسنگ کو دنیا بھر میں ایک اہم پیشہ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں نوجوان اپنی فنی صلاحیتوں کو عالمی اور مقامی مارکیٹ سے جوڑ رہے ہیں۔
الیما شاہ کا فری لانسنگ سے وابستہ ہونا بھی ان کے پیشہ ورانہ سفر کا اہم حصہ ہے۔ فری لانسنگ نے انہیں روایتی میڈیا اداروں کی حدود سے باہر کام کرنے اور اپنی مختلف مہارتوں کو مختلف نوعیت کے منصوبوں میں استعمال کرنے کے مواقع فراہم کیے۔
فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی اور ایڈیٹنگ جیسی مہارتیں آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کی مانگ بڑھ رہی ہے جو ایک سے زیادہ شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
میڈیا سے سماجی سرگرمیوں تک
الیما شاہ کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی سماجی سرگرمیوں سے وابستگی ہے۔ میڈیا اور سماجی کام کا تعلق بھی گہرا ہے، کیونکہ ایک کیمرہ کسی مسئلے، کسی فرد یا کسی کمیونٹی کی کہانی کو وسیع حلقے تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سماجی مسائل کی دستاویز بندی، لوگوں کی کہانیوں کو سامنے لانا اور معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک بصری پلیٹ فارم فراہم کرنا میڈیا کے اہم کرداروں میں شامل ہے۔
اسی تناظر میں الیما شاہ کی میڈیا سرگرمیوں کے ساتھ سماجی وابستگی ان کے سفر کو مزید مختلف بناتی ہے۔ ان کے لیے میڈیا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ لوگوں، واقعات اور معاشرتی حقیقتوں کو سمجھنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کا ایک ذریعہ بھی رہا ہے۔
قومی اور بین الاقوامی اعزازات
الیما شاہ کی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزازات بھی شامل ہیں۔ ان اعزازات نے ان کے کام کو مقامی سطح سے آگے ایک وسیع دائرے میں شناخت فراہم کی ہے۔
تاہم کسی بھی پیشہ ورانہ سفر میں اعزاز صرف آخری نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مسلسل سیکھنے، تجربات، تخلیقی سوچ اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کا عمل شامل ہوتا ہے۔
الیما شاہ کے سفر کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی شناخت کسی ایک ایوارڈ یا کسی ایک شعبے کی وجہ سے نہیں بلکہ میڈیا کے مختلف شعبوں میں مسلسل کام کرنے کے تجربے سے تشکیل پائی ہے۔
ایک بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے کی عکاس
آج میڈیا کی دنیا روایتی اخبارات، ٹیلی ویژن اور میگزین تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، فری لانسنگ اور آن لائن ویڈیو پروڈکشن نے میڈیا کے تصور کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
ایسے وقت میں ایک جدید میڈیا پروفیشنل کے لیے صرف ایک ہنر کافی نہیں رہا۔ فوٹوگرافی کے ساتھ ویڈیو، ویڈیو کے ساتھ ایڈیٹنگ اور ان سب کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی سمجھ بھی ضروری ہوتی جا رہی ہے۔
الیما شاہ کی پیشہ ورانہ شناخت اسی نئے میڈیا ماحول کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی مہارتیں میڈیا کے مختلف شعبوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں اور یہ بات انہیں روایتی میڈیا پروفیشنل سے ایک مختلف مقام دیتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہونے والی کہانی
الیما شاہ کی کہانی کی ایک اہم بات ان کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہونا بھی ہے۔ پاکستان کے بڑے میڈیا مراکز سے دور ایک شہر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا میڈیا کے مختلف شعبوں میں اپنی جگہ بنانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آج ٹیکنالوجی نے جغرافیائی حدود کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔
اب ایک نوجوان اپنے شہر میں رہتے ہوئے بھی کیمرہ، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
الیما شاہ کا سفر اسی تبدیلی کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہونے والا ایک پیشہ ورانہ سفر میڈیا کے وسیع میدان تک پہنچا۔
ایک فرد سے بڑھ کر ایک رجحان
الیما شاہ کی کہانی صرف ایک خاتون کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، ایڈیٹنگ، فری لانسنگ اور سماجی سرگرمیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے والی ان کی پیشہ ورانہ شناخت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید میڈیا میں کرداروں کی روایتی تقسیم تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
ان کا سفر ان خواتین کے لیے بھی ایک مثال ہے جو میڈیا، ڈیجیٹل پروڈکشن، فوٹوگرافی یا فری لانسنگ کو اپنے مستقبل کا حصہ بنانا چاہتی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہونے والا یہ سفر آج میڈیا کے مختلف شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ کیمرے کے پیچھے رہ کر کہانیاں محفوظ کرنے، ویڈیو کے ذریعے واقعات کو بیان کرنے اور ایڈیٹنگ کے ذریعے ان کہانیوں کو مکمل شکل دینے والی الیما شاہ نے اپنے لیے ایک ایسی شناخت بنائی ہے جو میڈیا کے ایک سے زیادہ شعبوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
یہی کثیرالجہتی سفر انہیں خیبر پختونخوا کی خواتین میڈیا پروفیشنلز کے منظرنامے میں ایک منفرد نام بناتا ہے۔