تحریر: جویریہ رفیع اللّٰہ
پہاڑوں کے دامن میں ایک خوبصورت گاؤں تھا جہاں ہرطرف ہریالی تھی۔ اسی گاؤں کے درمیان ایک بڑا مدرسہ قائم تھا۔ مدرسے کے استاد مولانا قاسم اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتے تھے اور انہیں صرف قرآن ہی نہیں بلکہ روحانی تربیت بھی دیتے تھے۔ گاؤں کے لوگ بھی مدرسے اور استاد کا بہت احترام کرتے تھے۔
سردی کا موسم تھا ایک دن ٹھنڈی بارش ہوگئ ۔ جب درس ختم ہو گیا تو تمام شاگردوں نے آپس میں کہا کہ کیوں نہ استاد کو منا کر مدرسے میں حلواہ پکا کر کھایا جائے ۔شاگردوں نے استاد سے سردی کے موسم میں حلوہ کھانے کی خواہش ظاہر کی تو استاد نے اجازت دےدی اور کہا کہ گھروں سے حلواہ پکانے کی ضروری سامان لے آئیں۔ تمام شاگرد اپنے اپنے گھروں سے چینی اور دیگر سامان لے آئے، مگر دیسی گھی کی کمی باقی رہ گئی۔ پورے گاوں سے کوئی گھی نہ لا سکا اس موقع پر ایک شاگرد عمر آگے بڑھ گیا اور استاد سے کہا کہ آپکی اجازت ہو تو یہ کمی میں پوری کردوں استاد نے بڑے حیرت سے اجازت دےدی ۔عمر مدرسے سے چلا گیا اور واپس آکر بہت زیادہ گھی ساتھ لے آیا۔عمر بھی اپنے استاد کا بہت احترام کرتا تھا، اس لئے وہ استاد کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ کچھ عرصے بعد باقی تمام شاگرد مدرسے سے چلے گئے اور عمر اکیلا رہ گیا۔ مولانا قاسم نے اس سے پوچھا کہ وہ اتنا سامان کیسے لا سکتا ہے۔ عمر نے جواب دیا کہ وہ جتنا چاہے، لا سکتا ہے۔اچانک تیز ہوا چلنے لگی، درخت زور زور سے ہلنے لگے اور مدرسے کے دروازے اور کھڑکیاں خوفناک انداز میں کھلنے بند ہونے لگیں۔ مولانا قاسم خوفزدہ ہو گئے۔
استاد مولانا قاسم کو معلوم ہوا کہ عمر دراصل ایک جن ہے جو انسانوں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمر نے بتایا کہ اس کے مالک نے اسے مولانا کی خدمت کے لئے بھیجا ہے۔اور اس کے علاوہ وہ یہاں پر خود بھی سبق سیکھتا ہے۔ مولانا نے عمر کا امتحان لینے کے لئے مختلف کام کروائے اور عمر نے اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا، مگر اس نے ہمیشہ استاد کا ادب اور احترام برقرار رکھا۔استاد نے عمر کے سامنے آیک چراغ رکھ دیا اور کہا کہ اس کے اندر گھس جاؤ اور دوسرے حصے سے باہر آجاؤ عمر نے استاد کی باتوں پر عمل کیا اور چراغ کے اندر گھس گیا اور واپس باہر آگیا اب استاد نے اسے کہا کہ چراغ کے جس حصے سے تم باہر آئے اسی حصے سے داخل ہو جاؤ اور دوسرے حصے سے باہر آجاؤ اب جیسے ہی عمر چراغ کے اندر گھس گیا تو استاد نے چراغ کے دونوں حصے بند کردئیے اور اس کو آگ کے اوپر رکھ کر جلا دیا۔ عمر نے مولانا سے کہا کہ کسی بے گناہ پر ظلم کرنا اچھا نہیں ہوتا، کیونکہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ لیکن مولانا قاسم نے اس نصیحت پر زیادہ توجہ نہ دی۔ یہ تمام مناظر عمر کی چھوٹی بہن یاسمین اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی لیکن وہ بول نہیں سکتی تھی۔ عمر نے مرنے تڑپتے ہوئے اور موت کی آخری سانس لیکر استاد سے کہا کہ اگر آپ بے وضو ہوگئے تو میری موت کا بدلہ تم سے لیا جائےگا اور یہ کہ کر وہ مرگیا۔ اب استاد ہر وقت وضو کی حالت میں رہتا اور مولانا قاسم کی یہ عادت مشہور ہو گئی کہ وہ ہر وقت باوضو رہتے تھے، مگر کسی کو اس کی اصل وجہ معلوم نہ تھی۔
ایک رات مولانا قاسم بے وضو سو گئے۔ اچانک کمرے میں خوفناک آوازیں آنے لگیں، دروازے اور کھڑکیاں خود بخود کھلنے اور بند ہونے لگیں۔ پھر دو لمبے سائے نمودار ہوئے اور انہوں نے مولانا کو بتایا کہ وہ عمر کے والدین اور اسکی چھوٹی بہنں یاسمین بھی تھیں اور اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے آئے ہیں۔ مولانا نے خوف کے مارے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن بے وضو ہونے کی وجہ سے خود کو محفوظ نہ رکھ سکے۔
آخرکار جنات نے مولانا کو سخت سزا دی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔اور گاؤں سے دور گھنے جنگلوں کے درمیان ایک بڑے سے کنویں میں بار بار پھینک کر ہلاک کردیا ۔اس واقعے سے گاؤں کے لوگوں نے یہ سبق سیکھا کہ ظلم کبھی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ ایک دن انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا پڑتا ہے۔ اس افسانے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ انصاف، رحم دلی اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئیے، کیونکہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ چاہے وہ اللہ کی بنائی ہوئی کوئی بھی مخلوق کیوں نہ ہو۔