ڈاکٹر عیداکبر محب
خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز نے حالیہ ایف اے اور ایف ایس سی کے نتائج جاری کر دیے ہیں ۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاسنگ پرسنٹیج کے ہندسے گردش کرنے لگے ہیں۔ اگر صرف بی آئی ایس ای پشاور کے نتائج کو لے لیں تو اس میں پارٹ ٹو کے 66,735 امیدواروں میں سے 35,103 کامیاب قرار پائے، یعنی مجموعی کامیابی کی شرح 52.60 فیصد رہی۔ پارٹ ون کا نتیجہ اس سے بھی ذرا کم، تقریباً 51 فیصد ٹھہرا۔ صوبے کے باقی سات بورڈز کا حال بھی کچھ مختلف نہیں، سب کہیں 50 سے 58 فیصد کے درمیان جھول رہے ہیں۔ سرسری نظر ڈالیں تو یہ اعداد و شمار مایوس کن معلوم ہوتے ہیں، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے فیصد بچے پاس ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ جو پاس ہوئے وہ دراصل کیا سیکھ کر پاس ہوئے۔
نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک دلچسپ اور تشویش ناک تصویر ابھرتی ہے۔ ریگولر طالبات کی کامیابی کی شرح 74.73 فیصد رہی اور انہوں نے 2,346 اے ون گریڈز حاصل کیے جبکہ ریگولر طلبہ محض 39.05 فیصد کی شرح پر سمٹ کر رہ گئے اور ان میں سے 21,135 امتحان میں ناکام رہے۔ گروپ وار صورتحال بھی یکساں نہیں: پری میڈیکل میں طالبات کی کامیابی 79.21 فیصد جبکہ طلبہ کی محض 47.11 فیصد رہی۔ جنرل اور کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کی حالت سب سے کمزور رہی، جہاں کامیابی کی شرح محض 28.93 فیصد تک گر گئی۔ مضامین کی سطح پر دیکھیں تو ریاضی، جنرل ریاضی اور لازمی اسلامیات میں کامیابی کا تناسب نسبتاً کم رہا، جبکہ اردو، انگریزی اور حیاتیات جیسے مضامین میں طلبہ نے 87 سے 95 فیصد تک کامیابی حاصل کی۔ یہ فرق خود بتاتا ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم اور نظامِ امتحان کہاں کھڑا ہے۔
اب آئیے اصل سوال کی طرف۔ کیا یہ نمبر جو ہر سال گنے اور بانٹے جاتے ہیں حقیقتاً تعلیم کے نمبر ہیں یا محض حافظے کے؟ قدیم و جدید ماہرینِ تعلیم کا اتفاق ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف اسباق کا ازبر ہونا نہیں، بلکہ معاشرے کی تعمیر، پوشیدہ صلاحیتوں کا اجاگر ہونا، منفی رویوں کا خاتمہ اور مثبت رویوں کا فروغ اور بالآخر ملک و قوم کے لیے قابل اور باصلاحیت افراد کی تیاری ہے۔ بلوم کی درجہ بندی (Bloom’s Taxonomy) کی روشنی میں دیکھا جائے تو سیکھنے کے کئی درجے ہیں: یاد رکھنا، سمجھنا، اطلاق کرنا، تجزیہ کرنا، جانچنا اور بالآخر کچھ نیا تخلیق کرنا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے امتحانی نظام میں ان اعلیٰ درجوں کی جانچ کا کتنا حصہ ہے؟ کیا ایک پرچہ جو محض چالیس پچاس سوالات پر مشتمل ہو، کسی طالب علم کی مکمل عملی، تخلیقی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کا فیصلہ دینے کا اہل ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ نصاب کے ہر مضمون میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ممکنہ سوالات موجود ہوتے ہیں، مختصر ہوں یا تفصیلی یا کثیر انتخابی۔ مگر جب پرچہ تیار ہوتا ہے تو انہی ہزاروں میں سے صرف چالیس پچاس سوالات چن لیے جاتے ہیں، اور طالب علم کی پوری تعلیمی محنت کا فیصلہ انہی محدود سوالات کی بنیاد پر کر دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار زیادہ تر یادداشت کی جانچ کرتا ہے نہ کہ فہم، اطلاق یا تخلیقی صلاحیت کی۔ چنانچہ جو طالب علم اچھے نمبر لے آتا ہے، اس کے بارے میں یہ حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے کہ وہ زندگی کے عملی مسائل حل کرنے، درست فیصلے کرنے یا نئی چیزیں تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔
اسی تناظر میں مضامین کی سطح پر نتائج بھی کچھ کہتے ہیں۔ اردو اور انگریزی جیسے زبان کے مضامین میں کامیابی کی بلند شرح اکثر رٹے اور تحریری مشق کا نتیجہ ہوتی ہے، جبکہ ریاضی اور اسلامیات جیسے مضامین میں کم کامیابی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تصوراتی فہم اور استدلال کی صلاحیت پیدا کرنے میں ہمارا تدریسی و امتحانی نظام کمزور پڑ رہا ہے۔ صنفی فرق بھی ایک الگ بحث کا متقاضی ہے: کیا طالبات واقعی تعلیمی لحاظ سے برتر ہیں یا ان کے ماحول، نگرانی اور مطالعاتی عادات ان کے حق میں کام کر رہی ہیں؟ یہ سوالات محض اعداد و شمار سے حل نہیں ہوں گے، بلکہ گہرے تحقیقی مطالعے کے متقاضی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح گزشتہ برسوں میں نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں بالکل اسی طرح نظامِ امتحانات کا بھی از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔ محض کتابی سوالات اور مختصر و تفصیلی جوابات تک محدود رہنے کے بجائے، ایسے طریقہ ہائے تشخیص متعارف کرائے جائیں جو طالب علموں کی عملی صلاحیت، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی قابلیت اور تخلیقی رجحانات کو بھی جانچ سکیں۔ زبانی امتحانات، عملی منصوبے، تحقیقی مقالے اور کلاس روم کی مسلسل تشخیص جیسے طریقے دنیا بھر میں رائج ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم محض نمبروں کی دوڑ سے نکل کر حقیقی تعلیم کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
حکومت، ماہرینِ تعلیم، تعلیمی منتظمین اور معاشرے کے تمام باشعور طبقات کو مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا ہمارا موجودہ امتحانی ڈھانچہ واقعی وہ صلاحیتیں جانچ رہا ہے جن کی بنیاد پر کسی طالب علم کو ’’لائق‘‘ یا ’’نالائق‘‘ قرار دیا جاتا ہے، یا نہیں۔ اگر جواب نفی میں ہے، تو محض پاسنگ پرسنٹیج کے اضافے یا کمی پر بحث کرنے کے بجائےاصل توجہ نظامِ تعلیم کی بنیادی ساخت کی اصلاح پر مرکوز کرنا ہوگی۔ ورنہ ہم ہر سال یہی اعداد و شمار دہراتے رہیں گے، خوش ہوں گے کہ پچاس ساٹھ فیصد بچے کامیاب ہوئے، مگر یہ سوال تشنہ ہی رہے گا کہ آیا وہ واقعی کچھ سیکھ کر نکلے ہیں یا محض کتابوں کے صفحات یاد کر کے۔ ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہونے کے لیے ہمیں اسی بنیادی سوال کا سامنا کرنا ہوگا ورنہ دنیاکے ترقی یافتہ ممالک سے سو سال پیچھے رہ جانے کا شکوہ یونہی جاری رہے گا