تحریر: عتیق الرحمن
خیبر پختونخوا ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، مگر دوسری طرف لاکھوں شہریوں کے ذہن میں ایک خوفناک سوال بھی جنم لے رہا ہے: کیا ایک بار پھر ہمارے گھر اجڑیں گے، بازار ویران ہوں گے، بچے اسکول چھوڑیں گے اور خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوں گے؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کا نہیں، ایک ایسے عوام کا سوال ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سب سے بھاری قیمت ادا کرتا آیا ہے۔
یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ دہشت گردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرے اور امن و امان قائم کرے۔ لیکن اسی کے ساتھ ریاست کی ایک دوسری ذمہ داری بھی ہے: اپنے ہی شہریوں کو غیر ضروری تباہی، بے گھری اور معاشی بربادی سے بچانا۔
اسی لیے اگر خیبر پختونخوا میں کسی بڑے فوجی آپریشن یا وسیع پیمانے کی سکیورٹی کارروائی کی بات ہو رہی ہے تو سب سے پہلے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
جولائی 2026 میں خیبر پختونخوا حکومت نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ صوبے کے آٹھ اضلاع میں کسی نئے فوجی آپریشن کی منظوری دی گئی ہے۔ حکومت نے عوام سے غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے مستند ذرائع پر اعتماد کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ اس لیے اس وقت کسی غیر مصدقہ خبر کو حتمی منصوبہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
لیکن خطرے کے امکانات اور سکیورٹی کی صورتحال اپنی جگہ موجود ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عوام کو بروقت اور واضح معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔
ہمیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا ہوگا۔
جب کسی علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف دہشت گردوں تک محدود نہیں رہتا۔ عام شہری بھی اس کے اثرات برداشت کرتے ہیں۔ لوگ اپنے گھر، زمینیں، کاروبار، مویشی اور روزگار چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، خاندان بکھر جاتے ہیں اور مقامی معیشت کئی سال پیچھے چلی جاتی ہے۔
غریب آدمی کے لیے نقل مکانی محض جگہ کی تبدیلی نہیں ہوتی؛ یہ اس کی پوری زندگی کے نظام کا ٹوٹ جانا ہوتا ہے۔
ایک مزدور روزگار کہاں سے لائے گا؟ ایک چھوٹا دکاندار اپنا کاروبار کہاں منتقل کرے گا؟ ایک کسان اپنی زمین کس کے حوالے کرکے جائے گا؟ ایک بزرگ شخص اپنا گھر اور آبائی قبرستان چھوڑ کر کہاں جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو بچے پہلے ہی تعلیمی مشکلات کا شکار ہیں، ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟
وادیٔ تیراہ میں حالیہ سکیورٹی صورتحال کے دوران آبادی کی نقل مکانی نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت سامنے رکھی کہ سکیورٹی کارروائیوں کے انسانی اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں۔
اس لیے آج ضرورت صرف یہ سوچنے کی نہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیسے کی جائے، بلکہ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عام شہری کو محفوظ رکھتے ہوئے کارروائی کیسے کی جائے۔
دنیا بھر میں جدید انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی صرف روایتی فوجی طاقت پر منحصر نہیں ہوتی۔ انٹیلی جنس، ٹارگٹڈ کارروائیاں، پولیس کی استعداد، سرحدی نگرانی، مقامی انتظامیہ، عدالتی نظام اور عوامی تعاون بھی اس کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانے، انٹیلی جنس نظام بہتر کرنے اور سول انتظامیہ کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت مسلسل محسوس کی جاتی رہی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر دہشت گردوں کی نشاندہی، ان کے سہولت کاروں، مالیاتی ذرائع، نقل و حرکت اور رابطوں کے بارے میں معلومات دستیاب ہوں تو کیا ہر مسئلے کا جواب لازماً بڑے پیمانے کی کارروائی ہی ہونا چاہیے؟
جہاں ٹارگٹڈ کارروائی ممکن ہو، وہاں پورے علاقے کی آبادی کو متاثر کرنے والی کارروائی سے پہلے تمام متبادل راستوں پر غور کیوں نہ کیا جائے؟
یہ سوال ریاست مخالف نہیں۔ بلکہ ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے سکیورٹی اہلکار بھی اسی معاشرے کے بیٹے ہیں۔ پولیس، فوج اور دیگر اداروں کے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا احترام بھی ضروری ہے اور ان قربانیوں کے نتیجے میں پائیدار امن کا حصول بھی۔
لیکن پائیدار امن صرف بندوق سے نہیں آتا۔
امن کے لیے مضبوط انٹیلی جنس نظام چاہیے، مؤثر پولیس چاہیے، فوری اور غیر جانب دار انصاف چاہیے، سرحدی نظم و نسق چاہیے، نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار چاہیے اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد چاہیے۔
اگر عوام کو بار بار یہ احساس ہو کہ فیصلے ان کے سروں پر مسلط کیے جا رہے ہیں تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا ہے۔
اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کسی بھی بڑی سکیورٹی حکمتِ عملی سے پہلے عوامی نمائندوں، مقامی عمائدین، قبائلی مشران اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اگر کسی علاقے میں انخلا ناگزیر ہو تو پہلے سے مکمل منصوبہ موجود ہونا چاہیے۔ محفوظ راستے، عارضی رہائش، خوراک، صحت، بچوں کی تعلیم، روزگار اور بروقت معاوضے کا نظام کاغذ پر نہیں بلکہ عملی طور پر تیار ہونا چاہیے۔
عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کارروائی کیوں ضروری ہے؛ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ ان کے گھروں، روزگار اور مستقبل کے تحفظ کے لیے کیا انتظام کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی دیکھی، جنازے دیکھے، نقل مکانی دیکھی، تباہ شدہ بازار دیکھے اور اپنے پیاروں کو کھویا۔ اب وہ صرف ایک چیز چاہتے ہیں: امن، تحفظ اور اپنے گھروں میں باعزت زندگی۔
لہٰذا اگر کوئی نیا آپریشن ضروری سمجھا جاتا ہے تو اس کا فیصلہ جذبات یا افواہوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل شواہد، واضح مقاصد اور کم سے کم انسانی نقصان کے اصول پر ہونا چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف ریاست کو کمزور نہیں، مضبوط ہونا چاہیے؛ لیکن ریاست کی طاقت کا اصل مقصد اپنے شہری کو محفوظ بنانا ہے، اسے دوبارہ بے گھر کرنا نہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام مزید ایک ایسی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے جس میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی اپنا گھر، روزگار، تعلیم اور مستقبل کھو بیٹھے۔
اب وقت ہے کہ بندوق کے ساتھ حکمتِ عملی بھی استعمال ہو، طاقت کے ساتھ تدبر بھی ہو اور سکیورٹی کے ساتھ انسان بھی نظر آئے۔
امن ایسا ہو جو صرف خاموشی نہ لائے، بلکہ لوگوں کو اپنے گھروں میں محفوظ، باعزت اور مطمئن زندگی بھی دے۔