اسلام آباد: حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات مشروط طور پر تسلیم کرنے اور ان کی منظوری و عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی کرانے کی پیشکش کردی، تاہم حکومت نے اس پیشکش کو لانگ مارچ کی منسوخی سے مشروط کیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ محض تحریری یقین دہانی کافی نہیں، مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کو پہلے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کو آگاہ کیا ہے کہ اگر لانگ مارچ ختم کردیا جاتا ہے تو حکومت مطالبات کی منظوری اور ان پر عملدرآمد کی تحریری گارنٹی دینے کے لیے تیار ہے۔ حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اس پیشکش پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی جاتی رہی ہیں، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا، اس لیے اس مرتبہ تحریری یقین دہانی کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی منسوخی کو عمران خان سے ملاقات اور خواتین کی رہائی سے بھی مشروط کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی بہنوں اور اہلیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے، جبکہ عمران خان سے ان کے خاندان، پارٹی قیادت اور وکلا کی ملاقات بھی یقینی بنائی جائے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی مذاکرات میں پیش کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کمیٹی اس فیصلے پر عملدرآمد لانگ مارچ کی منسوخی کے بعد ہونے پر آمادہ ہے، تاہم تحریک انصاف نے تحریری یقین دہانی مانگی ہے کہ مستقبل میں عمران خان سے خاندان، پارٹی رہنماؤں اور وکلا کی ملاقاتوں پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیاں آج ایک دوسرے کی شرائط کا جواب دیں گی، جبکہ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پی ٹی آئی کی شرائط پر اتفاق کرتی ہے تو تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ منسوخ کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ مذاکراتی عمل میں ہونے والی پیش رفت اور فریقین کی شرائط پر اتفاق رائے سے مشروط ہوگا۔