خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں خواتین کو ہراساں کرنے اور مبینہ طور پر فحش ویڈیوز بنانے کے الزام میں پولیس اہلکار اور اعظم آباد چوکی انچارج نصیب جان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ڈی پی او صوابی وقاص رفیق نے خواتین کی شکایت پر فوری ایکشن لیتے ہوئے نامزد پولیس اہلکار کے خلاف تھانہ زیدہ میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق خواتین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، نامزد اہلکار کے خلاف مقدمے کے ساتھ محکمانہ کارروائی بھی متوقع ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں دستیاب شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ معاملے کی قانونی کارروائی مکمل کی جاسکے۔
نامزد اہلکار کی گرفتاری کے لیے کارروائی
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد اہلکار نصیب جان ایک لڑکی کے ہمراہ تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز جاری ہیں۔
ایس ایچ او زیدہ راز محمد خان کو ہدایت کی گئی ہے کہ معاملے سے متعلق تمام شواہد اکٹھے کیے جائیں اور قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔
ڈی پی او صوابی وقاص رفیق نے کہا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور متاثرہ خواتین کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں، جبکہ مقدمے میں نامزد اہلکار کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔