صوابی:تھانہ زیدہ میں پولیس اہلکار نصیب جان کے خلاف درج مبینہ اغوا کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ مغویہ آمنہ نے عدالت میں پیش ہوکر اپنے اغوا سے متعلق الزامات کی تردید کردی۔
تفصیلات کے مطابق 4اکتوبر کو مسما فاطمہ زوجہ محمد ادریس، سکنہ کوٹھا، کی مدعیت میں تھانہ زیدہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے میں پولیس اہلکار نصیب جان ولد عبد الواحد، سکنہ یار حسین، حال شاہ منصور، پر فاطمہ اور اس کی بہن آمنہ کو مبینہ طور پر اغوا کرنے، تشدد اور بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مقدمے کے اندراج کے بعد 5اکتوبر کو نامزد پولیس اہلکار نصیب جان نے ایڈیشنل سیشن جج-II صوابی کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔
اسی روز مبینہ مغویہ آمنہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق آمنہ نے اپنے اغوا، پولیس اہلکار نصیب جان کی جانب سے کسی ویڈیو کی ریکارڈنگ اور مبینہ تعلق کے الزامات کی تردید کی۔
آمنہ نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ اس کے والدین مبینہ طور پر منشیات فروشی سے وابستہ ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر اعتراض کے باعث 11 جون 2026 کو گھر میں جھگڑا ہوا۔
اس کے بعد وہ اور اس کی بہن اپنی مرضی سے گھر سے نکل گئیں اور شاہ منصور ٹاؤن شپ میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی۔
عدالتی بیان کے مطابق دونوں بہنوں نے 11 جولائی کو شاہ منصور کا مکان چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں انہوں نے کرائے پر گھر حاصل کیا۔
آمنہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بہن سے جھگڑے کے بعد فاطمہ والدین کے گھر واپس چلی گئی، جبکہ وہ خود اسلام آباد میں مقیم رہی۔
آمنہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ وہ اسلام آباد میں اپنی مرضی سے رہ رہی ہے اور ایک شاپنگ مال میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر ملازمت کرتی ہے۔ اس نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ آئندہ بھی اپنی مرضی سے اسلام آباد میں رہنا چاہتی ہے۔
مقدمے میں عائد الزامات اور آمنہ کے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان کے بعد کیس کی مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔