ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا میں آٹے کا بحران سنگین ہونے لگا اور آٹا ڈیلرز نے قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کوٹہ نہ ملنے کی شکایت کی ہے ۔
ڈیلرز کے مطابق پنجاب سے آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی ہے۔
پرمٹ ختم، آٹے کی سپلائی متاثر
خیبرپختونخوا آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر حاجی نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آٹے کی ترسیل کے تمام پرمٹ ختم کیے جانے کے بعد خیبرپختونخوا کو آٹے کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں 80 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 14 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 20 کلو سپیشل آٹے کا تھیلا 3 ہزار 200 روپے اور فائن آٹے کا تھیلا 3 ہزار 400 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت بھی مہنگی ہوتی جارہی ہے۔
پنجاب سے آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک جانب خیبرپختونخوا کی آٹا ملوں سے عوام کو مطلوبہ مقدار میں آٹا دستیاب نہیں، جبکہ دوسری جانب پنجاب سے آٹے کی ترسیل بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے تمام پرمٹ ختم کردیئے ہیں جس کے باعث راستوں میں آٹے کی ترسیل مشکلات کا شکار ہے اور اس صورتحال کا براہ راست اثر خیبرپختونخوا کی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔
ملوں سے کوٹہ نہ ملنے کی شکایت
آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی ملوں سے ڈیلرز کو ان کا مقررہ کوٹہ نہیں مل رہا جبکہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے فرضی ڈیلروں کو کوٹہ دیے جانے کی شکایات ہیں۔
ڈیلرز کے مطابق صوبے میں حکومتی رٹ مؤثر نظر نہیں آرہی، جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں قیمتیں مختلف
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 2200 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہی بنیادی ضرورت کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہورہی ہے۔
ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی ترسیل میں رکاوٹیں فوری دور کی جائیں، ملوں سے ڈیلرز کا کوٹہ یقینی بنایا جائے اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں