حکمِ امتناع برقرار، وکیل کی عدم حاضری پر حکم واپس لینے کا انتباہ
پشاور (نمائندہ پختونخوا نیوز) پشاور ہائیکورٹ نے چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون پر منتخب رکن قومی اسمبلی عبداللطیف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا آخری موقع دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو حکمِ امتناع واپس لیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں اہم قانونی نکات زیرِ غور ہیں، جن پر فیصلہ کرنے سے قبل درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سننا ضروری ہے۔
جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں پشاور ہائیکورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار کے جونیئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے سینئر وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں مصروف ہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جائے۔ عدالت نے وکیل کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ لارجر بینچ خصوصی طور پر ان مقدمات کی سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، لہٰذا متعلقہ وکیل کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ لارجر بینچ کی تشکیل کے باعث دیگر مقدمات کی سماعت بھی متاثر ہوئی ہے۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ عبداللطیف کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا تھا۔ عبداللطیف نے نااہلی کے اس فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، تاہم درخواست پر تاحال حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ چترال کی قومی اسمبلی کی نشست تقریباً ایک سال سے خالی ہے اور حکمِ امتناع کے باعث اس حلقے میں انتخابی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ حکمِ امتناع ختم کیا جائے تاکہ حلقے میں انتخاب کرانے کی راہ ہموار ہو سکے۔
عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے کے اہم قانونی پہلوؤں پر درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سنے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے وکیل کو آخری موقع دے دیا گیا۔ آئندہ سماعت میں عبداللطیف کی نااہلی کے خلاف درخواست اور این اے ون چترال میں انتخاب کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہوگی۔