اسلام آباد (نمائندہ پختونخوا نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی مبینہ غیرقانونی بھرتیوں اور بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ دونوں اداروں نے اسعد محمود کو طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے بھرتیوں کے معاملے میں ان کا مؤقف اور بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسی معاملے میں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔
نیب کے نوٹس کے مطابق اسعد محمود کے دورِ وزارت، یعنی 2022ء اور 2023ء کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس میں مجموعی طور پر 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر 4 ہزار 252 افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں، یوں منظور شدہ تعداد سے 314 زیادہ بھرتیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقات میں 2 ہزار 646 ایسی آسامیوں پر بھی تقرریوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں پہلے ہی ختم کیا جا چکا تھا۔ تحقیقاتی ادارے اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ان آسامیوں پر بھرتیاں کس اختیار کے تحت کی گئیں اور آیا اس عمل میں کابینہ کمیٹی کی ہدایات کو نظرانداز کیا گیا۔
نیب کے مطابق کنٹریکٹ بنیادوں پر ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیوں کی سفارش کی گئی تھی، تاہم الزام ہے کہ اس کے برعکس بڑی تعداد میں مستقل تقرریاں کی گئیں، جس سے سرکاری ادارے پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
تحقیقات میں بعض امیدواروں کی مبینہ سیاسی وابستگی، جعلی اور بوگس دستاویزات، زائد العمر افراد کی تقرریوں اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔ نیب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ بھرتیوں کے دوران متعلقہ قواعد و ضوابط کی پابندی کی گئی یا اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔
نیب نے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے 30 اکتوبر 2026ء کو جاری نوٹس کے ذریعے اسعد محمود کو 2 نومبر کو صبح 11 بجے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا۔ ادارے نے پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں کے دوران مبینہ بدعنوانی اور سنگین بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
ایک ہی معاملے پر نیب اور ایف آئی اے کی الگ الگ تحقیقات نے پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں کے طریقہ کار اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کو اہم سوال بنا دیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی حتمی حقیقت کا تعین تحقیقات اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف کی روشنی میں ہوگا۔