سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی مکمل حمایت
انقرہ (رپورٹ: شبانہ آیاز)
جو ترکیہ کی پارلیمنٹ کے ممتاز رکن (آق پارٹی)، ترکیہ–پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے صدر اور یورپی یونین و نیٹو پارلیمانی اسمبلیوں کے رکن ہیں، نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اپنے تفصیلی بیان میں علی شاہین نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے باعث ہونے والے انسانی اور معاشی نقصانات، قربانیوں اور درد کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور اس میں شریک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کو ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ کوئی تیسرا ملک اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کرے۔ انہوں نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی تاریخی مہمان نوازی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سوویت قبضے کے بعد پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور افغانستان میں امریکی قیادت میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بھاری نقصانات برداشت کیے۔ اس دوران 50 ہزار سے زائد پاکستانی شہری ڈرون حملوں اور سرحدی علاقوں میں دیگر حملوں میں جان کی بازی ہار گئے۔ ترک قانون ساز نے خبردار کیا کہ بعض عناصر افغان سرزمین کو خطے میں بدنیتی پر مبنی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور مسلم افغانستان کے دشمن مشترک ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت اور عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش سکیورٹی خطرات کے خاتمے کے لیے مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ افغانستان واضح یقین دہانی کروائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی اور اس مقصد کے لئے جامع تعاون کو یقینی بنایا جائے۔ سرحدی تنازعات کے حوالے سے علی شاہین نے ڈیورنڈ لائن جیسے مسائل کے پُرامن حل پر زور دیتے ہوئے باہمی سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کی۔ اسلامی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”کسی مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔” آخر میں انہوں نے شاعرِ مشرق، علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بھی نقل کیا۔۔
“چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا”
یہ بیان پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، انسدادِ دہشت گردی کے تعاون اور پاکستان و افغانستان کے درمیان سفارتی حل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
