ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نئی تجاویز سامنے آئی ہیں، جنہیں ایک اہم سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے بدلے کئی اہم شرائط پیش کی ہیں، جن میں سب سے پہلے مرحلے میں جنگ کا خاتمہ اور اس بات کی ضمانت شامل ہے کہ اسرائیل اور امریکا آئندہ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔
عہدیدار کے مطابق اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہوگا، جبکہ امریکی پابندیوں اور ممکنہ اقتصادی ناکہ بندی کے خاتمے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوہری پروگرام سے متعلق پیچیدہ مذاکرات کو اگلے مرحلے میں لے جانے کی بھی تجویز شامل ہے، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ دوبارہ امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط میں نرمی کا اشارہ دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی بھی ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اہم معاملات پر اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں، اور مذاکراتی عمل کی بحالی ممکن تو ہے مگر اس میں پیش رفت سست اور طویل ہو سکتی ہے