چارسدہ: (پختونخوا نیوز) نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف عالمِ دین اور سابق ایم پی اے شیخ الحدیث مولانا ادریس شہید ہوگئے، جس سے علاقے میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اتمانزئی کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے مولانا ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ان کے ساتھ موجود دو گن مین شدید زخمی ہوگئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہید کی میت اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر چارسدہ واقعے کے فوراً بعد ہسپتال پہنچ گئے اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس اندوہناک واقعے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن قائم رکھیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے بھی مولانا ادریس کی شہادت کو صوبے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
انہوں نے کہا کہ شہید کی پوری زندگی دین کی خدمت اور امن کے فروغ کے لیے وقف تھی۔ ایسے جید علماء ہمیشہ شرپسند عناصر کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد از جلد قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ انصاف ہوتا نظر آئے۔
گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس غم کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامے رکھیں اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں۔