صوبائی حکومت کی جانب سے چترال کے مقامی افراد کی زمینوں کو حکومتی ملکیت قراردینے کے خلاف دائر رٹ پٹیشنز پردلائل مکمل ہونے پرتمام درخواستیں نمٹا دی گئیں۔
مذکورہ درخواستیں گزشتہ 6سال سے ہائیکورٹ میں زیرسماعت تھیں، جسٹس وقار احمد اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دورکنی بنچ نے سابق ایم پی اے غلام محمد، سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین ، عنایت اسیر وغیرہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت میں دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دیر، چترال اور سوات ایڈمنسٹریشن ریگولیشن 1969کے تحت چترال کا علاقہ بھی 1969میں پاکستان میں ضم ہوا، اس دوران چترال کی زمینی تنازعہ پر انکوائری کمیشن تشکیل دی گئی جس نے حکومت اور مقامی افراد کے درمیان ان زمینوں کی ملکیت کا تعین کیا تاہم جو زمینیں متنازعہ نہیں تھی اس حوالے سے کمیشن بھی خاموش رہا۔
بیرسٹراسدالملک نے دلائل دیئے کہ کچھ سال قبل صوبائی حکومت نے ایک فیصلے کے ذریعے چترال کی 97فیصد زمینیں اپنی ملکیت میں لے لیں، جس پر مقامی افراد نے 2019میں پشاورہائیکورٹ سے رجوع کیا، جبکہ عدالت نے حکم امتناع جاری کرکے حکومت کو فیصلے پر عملدرآمد سے روک دیا تھا۔ عدالت نے وکلاءسمیت تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر رٹ درخواستیں نمٹا دی ہیں، اور ہائیکورٹ کی جانب سے تحریری فیصلے بعد میں جاری کیاجائےگا۔
