ویب ڈیسک: صوبائی دارالحکومت پشاور میں شاہ پور کے علاقے بابو ٹاؤن فتو عبدالرحیمہ میں جرگے کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والا نوجوان عبدالصمد ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ پولیس نے واقعے میں نامزد دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق جرگے کے دوران فائرنگ کا یہ واقعہ 30 جون کو اس وقت پیش آیا جب اصغر ولد احمد خان اپنے بھائی عبدالصمد، والد اور دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ ایک گھریلو تنازع کے حل کے لیے جرگے کی صورت میں ملزم کے گھر گئے۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران تلخ کلامی اور ہاتھاپائی ہوئی، جس کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، فائرنگ سے اصغر اور عبدالصمد زخمی ہوئے، تاہم بعد میں عبدالصمد ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں سمیع، انعام، سہیل اور قاری سلیم کو نامزد کیا گیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ دو ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ دو دیگر ملزمان تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے میں مخالف فریق کے کچھ افراد بھی زخمی ہوئے تھے، جس کے باعث دونوں جانب سے کراس ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
مقتول کے والد احمد خان کے مطابق ان کی بیٹی کی شادی تقریباً چار سال قبل سمیع سے ہوئی تھی، ان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ملزم نے مبینہ طور پر ایک ٹک ٹاکر خاتون سے دوسری شادی کی، جس کے بعد وہ ان کی بیٹی پر تشدد کرتا تھا، اسی تنازع کو حل کرنے کے لیے جرگہ منعقد کیا گیا تھا۔
یہ دعویٰ مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے کیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے ملزم یا اس کے وکیل کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔