ضلع بنوں کے مختلف علاقوں نرمی خیل، بکاخیل اور تختی خیل میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہے، جہاں مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشتگرد ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری بھی کی گئی ہے۔
نرمی خیل مداروپ کے سرکاری سکول پر جٹ طیاروں سے حملہ کیا گیا، اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ طالبان مرکز اور ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھےذرائع کے مطابق کارروائی دہشتگرد عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ذرائع کے مطابق نرمی خیل، بکاخیل اور تختی خیل میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، اس دوران وقفے وقفے سے شدید دھماکوں کی آوازیں بھی دنی گئی ہیں۔علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات ہے اور سرچ و کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران سنے جانے والے بعض دھماکے مبینہ طور پر دہشتگردوں کے بارودی مواد کے ذخائر پھٹنے کے باعث ہوئے، تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ذرائع کے مطابق بنوں کی تحصیل بکاخیل مداروپ، نرمی خیل کالج پر بمباری کی گئی، جس سے کالج میں مقیم دہشتگردوں کی ہلاکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اس دوران وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مداروپ بکاخیل نرمی خیل کالج دہشتگردوں کے ٹھکانے پر ڈرون سے بھاری بمباری جاری ہے، اس دوران جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔سیکیورٹی فورسز علاقے کو کلیئر کرنے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں، عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں