پشاور(بیورورپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کی طرف سے پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ انتہائی افسوسناک ہے، جس کا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں جس طرح بڑھ رہی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر مسلط ہونے والوں کا وطیرہ صرف اپنی جیبیں بھرنا ہے، جبکہ عوامی ریلیف ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ایک طرف پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا ہے۔ صوبائی کابینہ کے 58ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 74 سال میں پاکستان کا قرضہ 43 ہزار ارب روپے تک پہنچا تھا، جبکہ موجودہ جعلی حکومت نے پانچ سال میں اسے 97 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔ 74 سال میں لیے گئے قرضے سے زیادہ قرضہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں پاکستان پر چڑھا دیا ہے، جس کا بوجھ بالآخر غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش طبقہ پس رہا ہے، یہاں تک کہ دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان میں مس ایڈونچرز کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ ملک اور عوام کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو نقصان پہنچانا ان کا وطیرہ ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کا بیان صرف ایک صوبے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے بیانیے کے خلاف ہے، جبکہ ایسے بیانات کی وجہ سے پاکستان مخالف بھارتی بیانیے کو دنیا میں پذیرائی ملتی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے خلاف بعض وفاقی وزراء کے بیانات کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں اور آیا یہ خیبرپختونخوا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک ادارے کا ڈی جی خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف ویڈیوز چلا کر پریس کانفرنسز کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف عدلیہ کا جج کمنٹس پاس کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں یا پاکستان کو کس طرف لے کر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے۔ چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا رویہ نفرتیں بڑھائے گا، جو پاکستان اور اداروں کے لیے اچھا نہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفادات میں بہترین سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال 130 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد جمع کیے، جبکہ رواں مالی سال 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نیا ٹیکس عائد کیے بغیر 200 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کرے گی۔ یہی حقیقی عوامی خدمت اور عوامی مفادات کا تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض غیر متعلقہ لوگ حکومتی اور محکمانہ امور میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں اور افسران کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افسران کو دھمکانے یا ان کے کام میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے پر بطور اسپیشل اسسٹنٹ کچھ کنٹریکٹس منسوخ کیے تھے۔ اے ڈی بی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں کے لیے بھرپور سکروٹنی کی گئی اور میرٹ اور مکمل کاغذات رکھنے والی کمپنیاں ہی کوالیفائی ہوئیں۔ نامکمل کاغذات، جعلی بینک گارنٹی اور سفارشوں کی بنیاد پر آنے والی کمپنیاں ڈس کوالیفائی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس میں غلط کام اور میرٹ کے خلاف جانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ میرٹ اور شفافیت پر پورا اترنے والی کمپنی کو کنٹریکٹ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم غلط طریقے سے کنٹریکٹ لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے افسران میرٹ، شفافیت، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔ میں اپنی کابینہ اور افسران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں اور افسران کو ڈرانے یا دھمکانے والوں کے خلاف آخری حد تک کھڑا رہوں گا۔بعد ازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کابینہ نے اجلاس میں جیل خانہ جات، تحفظ گواہان، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور دیگر ترقیاتی امور سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔وزیر اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا وٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2021 کے تحت خیبر پختونخوا وٹنس پروٹیکشن بورڈ اور اس کے ماتحت دو یونٹس کے قیام کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے فرائض میں پالیسی رہنما اصولوں کی تشکیل، ان پر عملدرآمد کی نگرانی، اور یونٹس کی نگرانی شامل ہوگی۔وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے کہا کہ یہ ایکٹ صوبائی حکومت کی جانب سے حساس نوعیت کے فوجداری مقدمات بشمول دہشت گردی کے مقدمات کی تفتیش، پیروی اور سماعت سے منسلک گواہان اور دیگر افراد کے تحفظ کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 3، 5 اور قاعدہ 3 کے تحت وٹنس پروٹیکشن بورڈ کے علاوہ یونٹ اول اور یونٹ دوم کا قیام لازم ہے۔صوبائی وزیر شفیع جان نے مزید بتایا کہ کابینہ نے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن دستاویزات (پولی کاربونیٹ سمارٹ کارڈز، رجسٹریشن بکس اور ایڈہیسو اسٹیکرز) کی چھپائی و فراہمی کے لیے نئے جی ٹو جی معاہدے اور نظرثانی شدہ نرخوں کی منظوری دی ہے۔وزیر اطلاعات کے مطابق کابینہ نے معمولی نوعیت کے سزا یافتہ قیدیوں کو دو ماہ کی خصوصی معافی دینے کی منظوری بھی دی، جس کے بعد قواعد و ضوابط اور سابقہ روایات کے مطابق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ گلیات سے مری کو پانی کی تقسیم اور فراہمی کے طریقہ کار، بشمول نرخ، واجبات اور فراہمی کے حجم سے متعلق معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) میں پیش کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ کابینہ نے اس معاملے کو سی سی آئی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دی۔