۔
تحریر ۔ اکرام اللہ بنگش ۔
سوشل میڈیا کے متعارف ہونے سے دنیا سمٹ گئی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ یہ آپ کے ہاتھ کی ہتھیلی میں سمو دی گئی ہے ۔ یہ علم کا سمندر ہے ۔ آپ سائنس بارے کوئی معلومات جاننا چاہتے ہیں دنیا کی کسی مشہور یونیورسٹی بارے اگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں کسی ملک کی خارجی پالیسی باری جانکاری چاہیے کرہ ارض کے کسی حصے میں آپ کے پسندیدہ کھیل کھیلا جا رہا ہو / اپنی دلچسپی کا علم حاصل کرنا چاہیے ہوں کسی فرد کمپنی یا ادارے سے رابطہ کرنا چاہتے ہوں تو بس ڈیجیٹل میڈیا سے جڑ جائیں ۔ یہ آپ کا مسلہ فورآ حل کر دے گا ۔ کتب کا زمانہ گیا ۔ لائبریری بند ہو گئی ۔ آپ نے کھل جاسم سم کہناہے اور وہ نایاب کتاب آپ کے سامنے کھل جائے گی ۔ چاہے تو اسے محفوظ کر لیں اور چاہیں تو وقتی فائدہ لے کر پھر بند کر دیں ۔ یہ علم اگاہی رابطے اور اظہار کا جدید اور سستا ترین ذریعہ ہے ۔ اس نے لوگوں کو باشعور بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پانچ سال کے بچے سے لے کر اسی سال کے بزرگ تک ہر بندہ ڈیجیٹل میڈیا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ اس نے گویا انسان کی زندگی ہی بدل دی ہے ۔ بچوں کے لیے تو یہ معلومات کا ناختم ہونے والا خزانہ ہے ۔ وہ اپنے وقت اور عمر سے پہلے ہی بہت کچھ جان لیتے ہیں ۔ یہ ڈیجیٹل میڈیا کا مثبت پہلو ہے ۔ اب زرا تاریک پہلو پر بھی نظر دوڑاتے ہیں ۔ ہم ایک مسلم اور پشتون معاشرے کے افراد ہیں ۔ ہمارا ایک خاندانی معاشرتی نظام ہے ۔ اس نظام میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر رہنا ہوتا ہے ۔ ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شرکت ضروری ہوتی ہے ۔ مل جل کر باہم عزت و احترام سے جینا ہی ہمارا طرہ امتیاز ہے ۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے ہمارے خاندان نظام میں دراڑیں ڈال دیں ہیں ۔ قربتیں فاصلوں میں بدل گئی ہیں ۔ گھر کے سارے افراد دن بھر کام کاج کرنے کے بعد شام کو اکٹھے ہوتے تھے ۔ مرد وخواتین علیحدہ علیحدہ اپنی محفلیں سجاتے تھے ۔ مردانی حصہ حجرہ کہلاتا تھا ۔ یہاں بچے اور بزرگوں کا اکٹھ ہوتا تھا ۔ بچوں کو آداب محفل سکھانے جاتے تھے ۔ بزرگوں سے بات کرنے کا ڈھنگ سکھایا جاتا تھا ۔ بزرگ ان کی اخلاقی تربیت کرتے تھے ۔ حجرے اب بھی آباد ہوتے ہیں ۔ بچے بڑے اور بزرگ سب حاضر ہوتے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ اب ہر بندہ اپنی دنیا میں مگن ہوتا ہے ۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہوتا ہے ۔ یہ سب لوگ ایک ہی جگہ موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔ بچے سوشل میڈیا میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ انہیں حقیقی رشتوں کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ اور یہی سوشل میڈیا کا تاریک پہلو ہے ۔ اسنے ہمارے معاشرتی نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ دین اسلام اور روایتی پشتون معاشرے کا سکھایا ہوا جزبہ صلہ رحمی خاندان سے جڑاؤ اور آپس کا پیار و محبت ختم ہو گیا ہے ۔ رشتوں میں دوریاں بڑھ گئ ہیں ۔ بچوں کو شعور دینے کی حد تک تو سوشل میڈیا کا استعمال بالکل جائز ہے لیکن اس سے زیادہ سم قاتل ۔ سوشل میڈیا ایک نعمت ضرور ہے لیکن اس کا استعمال ایک حد تک ہیں مناسب ہے ۔ بچوں کا مستقبل علم کردار اور مضبوط سماجی رشتوں میں ہی محفوظ ہے ۔ ہمارے معاشرتی نظام کی بقا میں ہی ہماری آنے والی نسل کی بقا ہے ۔ یہ زندگی ہماری نہیں ہے ۔ یہ رب العزت کی دی ہوئی امانت ہے ۔ اسے ہم نے اسلامی معاشرتی نظام کے تحت ہی گزارنی ہے ۔ اسی میں ہماری کامیابی ہے
