صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایک ارب روپے کی لاگت سے آرٹیفشل انٹیلی جنس اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے متعدد بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی ترجمان شفیع جان کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد عوامی خدمات کو جدید، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق صوبائی حکومت ایک ارب روپے کی لاگت سے خیبر پختونخوا آرٹیفشل انٹیلی جنس اتھارٹی قائم کرے گی۔ اس ادارے کا مقصد عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانا، سرکاری نظام کو مزید مؤثر بنانا اور تعلیمی شعبے میں AI ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
ترجمان کے مطابق حکومت پشاور کے مختلف عوامی مقامات پر فری پبلک وائی فائی سروس بھی شروع کر رہی ہے، جس کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق اس منصوبے کا دائرۂ کار مرحلہ وار دیگر اضلاع تک بھی توسیع دیا جائے گا۔
گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 374 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ زمینوں کے ریکارڈ کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ بجٹ میں خیبر پختونخوا سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر کے قیام کے لیے 900 ملین روپے کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد سرکاری ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز کی ڈیجیٹل انٹیگریشن کے لیے 300 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
شفیع جان کے مطابق صوبائی حکومت جدید، شفاف اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخوا کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔