چارسدہ میں معاہدے کے باوجود تمباکو ڈپو عملے کی خلاف ورزی پر کاشتکار سراپا احتجاج، تمباکو کاشتکاروں نے تمباکو ڈپو عملے کے معاہدے سے مکر جانے پر احتجاج کا اعلان کردیا۔
فضل ربی اور دیگر کا مظاہرے میں کہنا تھا کہ ٹوبیکو ڈپو میں کاشتکاران کا احتجاج جاری ہے، صاف و شفاف تمباکو لینے سے انکار کر کے کسانوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے، جس سے کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
کاشتکاروں نے کہا ہے کہ تمباکو کی مد میں حکومت کو چارسدہ سے کروڑوں روپے کا ٹیکس دیتے ہیں ، ڈپو عملے کے ناروا رویے کے خلاف سینکڑوں کاشتکاروں نے احتجاج کا اعلان کر دیا۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ ٹوبیکو آفس کے دروازے کسانوں پر بند کر دیے گئے، ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے، مظاہرین نے ڈپو عملے کی مبینہ بدسلوکی پر کسانوں نے شدید احتجاج کی دھمکی دے دی۔
مظاہرین نے ضلع بھر کے کاشتکاروں کو متحد کرنے اور سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا، اور صوبائی اور وفاقی حکومت سے کسانوں کے تحفظ اور فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
کاشتکاروں نے کہا کہ ہمارا معاشی قتل عام بند کیا جائے، اگر تمباکو ڈپو اہلکاران کا رویہ یہی رہا تو کاشتکاران تمباکو کاشت کرنا چھوڑ دیں گے، مطالبات منظور نہ ہوئے تو فاروق اعظم چوک میں بھرپور احتجاج ہوگا