پشاور: تھانہ رحمان بابا کی حدود میں اجتماعی زیادتی کے سنگین مقدمے میں گرفتار چار ملزمان گزشتہ روز مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق چاروں ملزمان کو مزید تفتیش اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم ساتھی ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران گرفتار چاروں ملزمان فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ رواں ماہ 6 ستمبر کو تھانہ رحمان بابا کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ملزمان مبینہ طور پر ایک گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے گھر کے سربراہ کو ایک کمرے میں بند کردیا اور اس کی دو بیویوں کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے گھر میں موجود 9 سالہ بچی کو بھی مبینہ طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے مذموم ارادے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
واقعے کے بعد متاثرہ خواتین نے پولیس سے رجوع کیا اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے مبینہ طور پر ملوث چار ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس حکام نے بعدازاں پریس کانفرنس کے ذریعے واقعے کی تفصیلات بھی میڈیا کے سامنے پیش کی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے دوران واقعے سے متعلق مزید شواہد اور دیگر ممکنہ ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی تھیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز چاروں ملزمان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی اور مزید تفتیش کے لیے پولیس کی نگرانی میں لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں مبینہ طور پر ان کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کردی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد اہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں گرفتار چاروں ملزمان گولیاں لگنے سے ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا جبکہ واقعے کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمے میں ملوث دیگر ملزمان اور فائرنگ کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور مزید حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔