ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ زیادہ مطالبات ہرگز قبول نہیں، غیر ملکی ذرائع ابلاغ رائٹرز کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششیں جنگ کے خاتمے کی نئی امید بن کر سامنے آئی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جہاں انہوں نے جنگ بندی اور ایران پر مسلط جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق اپنے ملک کا مؤقف پیش کیا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ پیش رفت پر اپنے اصولی مؤقف کو واضح انداز میں بیان کیا اور کہا کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے “زیادہ سے زیادہ مطالبات” کو ہرگز قبول نہیں کرے گا، یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تاحال براہِ راست مذاکرات پر اتفاق نہیں ہو سکا، تاہم پاکستان ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر ہے، جہاں ایک جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے، جو عالمی تیل ترسیل کا اہم راستہ ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس “بہتر معاہدہ” کرنے کا موقع موجود ہے، بشرطیکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو قابلِ تصدیق انداز میں ترک کرے، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کریں گے۔
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے خطے میں ناکہ بندی اور بحری قذاقی جیسے اقدامات جاری رکھے تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو یہ تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔